Al-Risala · August 1984 · page 28

ائمہ کے اقوال

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸

ائمہ کے اقوال

ما منا الا من يخطئ ويرد عليه الا المعصوم ہم میں سے ہر شخص غلطی کرتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص صلی اللہ علیہ وسلم (الامام مالك) کی کوئی بات قابلِ رد ہو سکتی ہے، سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ معصوم ہیں۔

اذا صح الحديث فهو مذهبی ۔ وا ضربوا جب حدیث سے ثابت ہو جائے تو وہی میرا مسلک بقولی عرض الحائط (الامام الشافعی) ہے ۔ اس کے بعد میرے قول کو دیوار پر مار دو۔ لا حجة في قول احد دون رسول الله صلى الله الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا قول حجت علیہ وسلم (الامام الشافعی) نہیں۔

لا ينبغي لمن لا يعرف دليلي ان يفتى بكلامی جو شخص میری دلیل کو نہ جانے اس کے لئے درست نہیں (وكان اذا افتی یقول) هذا رائی النعمان کہ وہ ہمارے قول پر فتویٰ دے۔ ابو حنیفہ جب کسی بن ثابت و هو احسن ما قَد رنا عليه فمن جاءٔ مسئلہ میں فتویٰ دیتے تو کہتے کہ یہ نعمان بن ثابت کی با حسن منه فهو اولی بالصواب (الامام ابوالحنیفہ) رائے ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہ احسن ہے۔ جو شخص اس سے زیادہ احسن کو پائے تو اس کے بعد وہی زیادہ احسن ہے۔

لا تقلدني ولا تقلّد مالكاً ولا الشافعی تم میری تقلید نہ کرو اور نہ مالک اور شافعی اور ولا الاوزاعی ولا النخعی ولا غیرھم اوزاعی اور نخعی یا کسی اور کی تقلید کرو۔ (الامام احمد بن حنبل) منار الاسلام صفر ۴۰ه (نومبر ۔ دسمبر ۱۹۸۳ء)

ائمہ اربعہ کے ان اقوال سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اصل چیز قرآن اور سنت تھی۔ وہ اس کو سراسر غلط سمجھتے تھے کہ کوئی شخص ان کا مقلد بن جائے اور کتاب و سنت سے براہ راست دین اخذ نہ کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے دور میں جو تقلید رایج ہوئی اس کا خود ائمہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ موجودہ روایتی تقلید کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قرآن وسنت کے ساتھ آدمی کا زندہ رشتہ قائم نہیں رہتا۔ قرآن وسنت مومن کی غذا ئیں ہیں۔ مگر مروجہ تقلید کے بعد قرآن وسنت یا تو کسی تقلیدی مسلک کو صحیح ثابت کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں یا برکت اور تقدس حاصل کرنے کے لئے۔ قرآن وسنت کے نام پر آدمی قرآن وسنت سے دور ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page