الفاظ کا فتنہ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۹
الفاظ کا فتنہ
ابو الطيب احمد بن حسين عرف متنبی (م ۳۵ - ۳۰۳ھ) کے متعلق دورائیں ہیں۔ ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اس بنا پر امیر حمص نے اس کو قید خانہ میں بند کر دیا تھا۔ دوسرا طبقہ اس کا منکر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ متنبی کے دل میں کبھی اس کا ارادہ پیدا ہو مگر اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔
متنبی ایک ذہین اور باکمال شاعر تھا۔ اس کا کچھ کلام کتابوں میں نقل ہوا ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے قرآن کے جواب میں کہا تھا مثلاً:
النجم السيار والفلك الدرار والليل والنهار ان الكافر لفي اخطار جو لوگ عربی زبان سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کلام اتناسطحی ہے کہ کوئی جاہل یاعجمی آدمی ہی اس کو قرآن کے مقابلہ میں رکھ سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ متنبی سے پوچھا گیا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ کیوں کہ آپ نے تو صاف طور پر کہا ہے کہ لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں)، اس نے کہا کہ تم لوگوں نے اس حدیث کا مطلب نہیں سمجھا۔ اس حدیث میں تو میری نبوت کی بشارت ہے۔ اس میں لا حرف نفی نہیں ہے بلکہ یہ نام ہے، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ” لا “ نام کا نبی میرے بعد ہوگا۔ کیوں کہ آسمانوں پر میرا نام ” لا “ ہے۔ ایک برطانی شہری کو کسٹم والوں نے پکڑا۔ وہ اپنے جوتے میں ۵۹۸ ملی گرام ہیروئن لیے ہوئے تھات (ٹائمز آف انڈیا ۱۹ جون م (۱۹۸) سوالات کے دوران اس نے کہا کہ اس نے صرف اس لئے ایسا کیا تھا کہ اپنی عادت کو ٹھوکر مار کر پھینک دے۔
He was only trying to kick the habit.
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لفظی تاویل کا میدان کتنا زیادہ وسیع ہے۔ لفظی تاویل ایک ایسا ہتھیار ہے جو سفید کو سیاہ کر دے۔ جو قائل کے کلام سے اس کے منشا کے برعکس مفہوم ثابت کر دے۔ لفظی تاویل آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ ہر بات سے اپنا نظریہ نکال لے۔ خواہ وہ بات اصلًا اس کے نظریے کے بالکل برعکس مفہوم کیوں نہ رکھتی ہو۔ آدمی حقیقت کی تردید الفاظ کے ذریعہ کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues