اسلامی انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
اسلامی انقلاب
حضرت آدم پہلے انسان تھے اور اسی کے ساتھ پہلے پیغمبر بھی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک آپ کی نسل توحید اور دین حق پر قائم رہی۔ اس کے بعد ملت آدم میں شرک کا غلبہ ہوگیا (البقره (۲۱۳) حضرت نوح اسی ملت آدم کی اصلاح کے لئے آئے جو اس وقت دجلہ اور فرات کے سرسبز علاقہ میں آباد تھی۔
تاہم حضرت نوح کی طویل کوششوں کے باوجود ملت آدم دوبارہ مشرکانہ دین کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئی۔ ان میں سے صرف چند آدمی تھے جو حضرت نوح پر ایمان لائے۔ چنانچہ عظیم طوفان آیا اور چند مومنین کو چھوڑ کر باقی تمام لوگ غرق کر دیئے گئے۔ اس کے بعد ملت نوح کے ذریعہ دوبارہ انسانی نسل چلی لیکن دوبارہ وہی قصہ پیش آیا جو اس سے پہلے پیش آچکا تھا۔ کچھ عرصہ بعد بیشتر لوگ دین توحید کو چھوڑ کر دین شرک پر چل پڑے۔ یہی قصہ ہزاروں سال تک بار بار پیش آتا رہا۔ خدا نے لگاتار پیغمبر بھیجے (المومنون (۲۳) مگر انسان ان سے نصیحت قبول کرنے پر تیار نہ ہوا۔ حتیٰ کہ تمام پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (یسین (۳۰) یہ سلسلہ ہزاروں برس تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اس زمانہ کے انسانی معاشروں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے شرک کا سبق لیتا۔ مذہبی رسموں، سماجی تقریبات قومی میلے اور حکومتی نظام تک ہر چیز نشر کا نہ عقائد پر قائم ہوگئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو انسان بھی پیدا ہو وہ شرک کی فضا میں آنکھ کھولے اور شرک ہی کے ماحول میں اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اسی چیز کو میں نے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہو جانے سے تعبیر کیا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت نوح کی دعا میں ان الفاظ میں ملتی ہے: ولا يلدوا الا فاجراً كفاراً (نوح (۲۷)
اب تاریخ حضرت ابراہیم تک پہنچ چکی تھی جن کا زمانہ ۲۱۰۰ قبل مسیح ہے۔ خود حضرت ابراہیم نے قدیم عراق میں جو اصلاحی کوششیں کیں ان کا بھی وہی انجام ہوا جو آپ سے پہلے دوسرے نبیوں کا ہوا تھا۔ اس وقت اللہ تعالی نے انسان کی ہدایت کے لئے نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے۔ اپنی فطری حالت پر قائم رہنے کی وجہ سے اس کے لئے توحید کو قبول کرنا آسان ہو جائے۔ پھر اسی گروہ کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے کہ وہ تاریخ میں جاری ہونے والے شرک کے تسلسل کو توڑے۔
اس وقت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق اور شام اور مصر اور فلسطین جیسے آباد علاقوں کو چھوڑ کر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues