اسلامی انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱
قدیم مکہ کے غیر آباد علاقہ میں جائیں۔ اور وہاں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو بسا دیں۔ یہ علاقہ وادی غیر ذی زرع ہوتینے کی وجہ سے اس زمانہ میں بالکل غیر آباد تھا۔ اس بنا پر وہ قدیم مشرکانہ تہذیب سے پوری طرح پاک تھا۔ حضرت ابراہیم کی دعا (ابراہیم ، 37) میں عند بیتک المحرم سے یہی چیز مراد ہے۔ یعنی ایک ایسا مقام جو شرک کی پہنچ سے دور ہو۔ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا مطلب یہ تھا کہ خدایا، میں نے اپنی اولاد کو ایک بالکل غیر آباد علاقہ میں بسا دیا ہے۔ جہاں مشرکانہ تہذیبوں کے اثرات ابھی تک نہیں پہنچے ہیں۔ ایسا میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ وہاں ایک ایسی نسل پیدا ہو جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے اور حقیقی معنوں میں توحید کی پرستار بن سکے۔
کسی تہذیبی تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پانا کیا معنی رکھتا ہے، اس کی وضاحت ایک جزئی مثال سے ہوتی ہے، راقم الحروف ایک ایسے علاقہ کا رہنے والا ہے جس کی زبان اردو ہے۔ میرے باپ اردو بولتے تھے۔ میں بھی اردو بولتا ہوں اور میرے بچوں کی زبان بھی اردو ہے۔ اب یہ ہوا کہ میرے ایک لڑکے نے لندن میں ایک ایسے علاقہ میں رہائش اختیار کر لی جہاں صرف انگریزی بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ہر طرف انگریزی زبان کا ماحول ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے اس لڑکے کے بچے اب صرف انگریزی زبان جانتے ہیں۔ وہ اردو میں اظہار خیال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ میں لندن گیا تو اپنے ان پوتوں سے مجھے انگریزی زبان میں بات کرنی پڑی۔
میرے ان پوتوں کا یہ حال اس لئے ہوا کہ اردو کے تسلسل سے منقطع ہو کر ان کی پرورش ہوئی۔ اگر وہ میرے ساتھ دہلی میں ہوتے تو ان بچوں کا یہ معاملہ کبھی نہ ہوتا۔
ذبح اسماعیل کے واقعہ کی حقیقت بھی یہی ہے۔ حضرت ابراہیم کو جو خواب (الصافات (۱۰۲) دکھایا گیا وہ ایک تمثیلی خواب تھا۔ اگر چہ حضرت ابراہیم اپنی انتہائی وفاداری کی بنا پر اس کی حقیقی تعمیل کے لئے آمادہ ہو گئے ۔ قدیم مکہ میں نہ پانی تھا، نہ سبزہ اور نہ زندگی کا کوئی سامان۔ ایسی حالت میں اپنی اولاد کو وہاں بسانا یقینا ان کو ذبح کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو جیتے جی موت کے حوالے کر دیا جائے۔ شرک کے تسلسل سے منقطع کر کے نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ کسی ایسے مقام پر ہی زیر عمل لایا جا سکتا تھا جہاں اسباب حیات نہ ہوں اور اس بنا پر وہ انسانی آبادی سے خالی ہو۔ حضرت ابراہیم کے خواب کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو معاشی اور سماجی حیثیت سے ذبح کر کے مذکورہ نسل تیار کرنے میں خدائی منصوبہ کا ساتھ دیں۔
یہ منصوبہ بچوں کے اسباب کے دائرہ میں زیرعمل لانا تھا اس لئے اس کی باقاعدہ نگرانی بھی ہو رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues