Al-Risala · August 1984 · page 32

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲

حضرت ابراہیم خود فلسطین میں مقیم تھے۔ مگر وہ کبھی کبھی اس کی جانچ کے لئے مکہ جاتے رہتے تھے۔ ابتداڑ اس مقام پر صرف ہاجرہ اور اسماعیل تھے۔ بعد کو جب وہاں زمزم کا پانی نکل آیا تو قبیلہ جرہم کے کچھ خانہ بدوش افراد یہاں آکر آباد ہوگئے۔ حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ایک بار فلسطین سے چل کر مکہ پہنچے تو اس وقت حضرت اسماعیل گھر پر موجود نہ تھے۔ حضرت ابراہیم نے ان کی بیوی سے حال دریافت کیا۔ بیوی نے کہا کہ ہم بہت برے حال میں ہیں، اور زندگی مصیبتوں میں گزر رہی ہے۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہوگئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دو (غیر عتبۃ بابك) حضرت اسماعیل جب لوٹے اور بیوی سے یہ رو داد سنی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے اور ان کا یہ پیغام تمثیل کی زبان میں یہ ہے کہ میں موجودہ عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے رشتہ کر لوں۔ چنانچہ انھوں نے اس کو طلاق دے دی اور قبیلہ کی دوسری عورت سے شادی کرلی۔ حضرت ابراہیم کی نظر میں وہ عورت اس قابل نہ تھی کہ وہ زیر تیاری نسل کی ماں بن سکے۔

کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ مکہ آئے۔ اب بھی حضرت اسماعیل گھر پر نہ تھے۔ البتہ ان کی دوسری بیوی وہاں موجود تھیں۔ اس سے حال پوچھا تو اس نے قناعت اور شکر کی باتیں کیں اور کہا کہ ہم بہت اچھے حال میں ہیں۔ حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس ہوگئے کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام دے دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ باقی رکھو (ثبت عتبۃ بابك) حضرت اسماعیل جب واپس آئے اور رو داد سنی تو سمجھ گئے کہ یہ میرے والد تھے اور ان کے پیغام کا مطلب یہ ہے کہ اس عورت کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ پیش نظر منصوبہ سے مطابقت کرکے رہ سکے اور پھر اس سے وہ نسل تیار ہو جس کا یہاں تیار کرنا اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے (تفسیر ابن کثیر)۔

اس طرح صحرائے عرب کے الگ تھلگ ماحول میں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔ اس نسل کی خصوصیات کیا تھیں ، اس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسل بیک وقت دو خصوصیات کی حامل تھی ۔ ایک الفطرة اور دوسرے المرورة۔

صحرائے عرب کے ماحول میں فطرت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی جو انسان کو متاثر کرے۔ کھلے بیابان، اونچے پہاڑ، رات کے وقت وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے تارے وغیرہ۔ اس قسم کے قدرتی مناظر چاروں طرف سے انسان کو توحید کا سبق دے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اس کو خدا کی عظمت اور کاریگری کی یاد دلاتے تھے۔ اسی خالص رہبانی ماحول میں پرورش پا کر وہ قوم تیار ہوئی جو حضرت ابراہیم

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page