Al-Risala · August 1984 · page 33

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳

کے الفاظ میں اس بات کی صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ حقیقی معنوں میں امت مسلمہ (البقرہ ۱۲۸) بن سکے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سپرد کر دینے والی قوم۔ یہ ایک ایسی قوم تھی جس کی فطرت اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ تھی، اسی لئے وہ دین فطرت کو قبول کرنے کی پوری استعداد رکھتی تھی۔

اسی کے ساتھ دوسری چیز جس کو پیدا کرنے کے لئے یہ ماحول خصوصی طور پر موزوں تھا وہ وہی ہے جس کو عربی زبان میں المروة (مردانگی) کہتے ہیں۔ قدیم حجاز کے سنگلاخ ماحول میں زندگی نہایت مشکل تھی۔ وہاں خارجی اسباب سے زیادہ انسانی اوصاف کار آمد ہو سکتے تھے۔ وہاں بیرونی ماحول میں وہ چیزیں موجود ۔ نہ تھیں جن پر انسان بھروسہ کرتا ہے۔ وہاں انسان کے پاس ایک ہی چیز تھی ، اور وہ اس کا اپنا وجود تھا۔ ایسے ماحول میں قدرتی طور پر ایسا ہونا تھا کہ انسان کے اندرونی اوصاف زیادہ سے زیادہ اجا گر ہوں۔ اس طرح دو ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ قوم بن کر تیار ہوئی جس کے اندر حیرت انگیز طور پر اعلیٰ مردانہ اوصاف تھے۔ پروفیسر فلپ ہٹی کے الفاظ میں پورا عرب ہیروز کی ایک ایسی نرسری (Nursery of heroes) میں تبدیل ہو گیا جس کی مثال نہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی پائی گئی اور نہ اس کے بعد۔

چھٹی صدی عیسوی میں وہ وقت آگیا تھا کہ تاریخ میں شرک کے تسلسل کو توڑنے کا منصوبہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ بنو اسماعیل کے اندر پیغمبر آخر الزماں (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا کئے گئے۔ جن کے بارہ میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : ھوالذي ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق ليظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (الصف) یہ آیت بتاتی ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کا خاص مشن یہ تھا کہ دین شرک کو غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور دین توحید کو غالب دین کی حیثیت سے دنیا میں قائم کر دیں۔ اس غلبہ سے مراد اصلاحی اور نظریاتی غلبہ ہے۔ یعنی تقریبا اسی قسم کا غلبہ جیسا کہ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم کو روایتی علوم کے اوپر حاصل ہوا ہے۔

یہ غلبہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اس کا کچھ اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ قدیم روایتی علوم کو اگر جدید سائنسی علوم پر غالب کرنے کی مہم چلائی جائے تو وہ کس قدر دشوار ہوگی ۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی میں یہ بے حد مشکل کام تھا کہ مشرکانہ تہذیب کو مغلوب کیا جائے اور اس کی جگہ توحید کو غالب فکر کا مقام عطا کیا جائے کسی نظام کے فکری غلبہ کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کو اس کی تمام جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنا۔ اس قسم کا کام ہمیشہ بے حد مشکل کام ہوتا ہے جو نہایت گہری منصوبہ بندی اور زبر دست جد وجہد کے بعد ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page