Al-Risala · August 1984 · page 34

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو دو خاص امدادی چیزیں فراہم کی گئیں۔ ایک وہ جس کا ذکر کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (آل عمران110) میں ہے۔ دوہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں ایک ایسا گر وہ تیار کیا گیا جو وقت کا بہترین گروہ تھا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ایک طرف وہ اپنی تخلیقی فطرت پر قائم تھا۔ دوسری طرف وہ چیز اس کے اندر کمال درجہ میں موجود تھی جس کو عربی زبان میں المروة (مردانگی) کہا جاتا ہے۔ اسی گروہ کے بہترین منتخب افراد، قبول اسلام کے بعد وہ لوگ بنے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔

دوسری خصوصی مدد وہ تھی جس کی طرف سورہ الروم کی ابتدائی آیات میں اشارہ ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں دو بڑی مشرکانہ سلطنتیں تھیں۔ ایک رومی (باز نطینی) سلطنت، دوسرے ایرانی (ساسانی) سلطنت۔ اس وقت کی آباد دنیا کا اکثر حصہ ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، انھیں دونوں سلطنتوں کے زیرِ قبضہ تھا۔ توحید کو وسیع تر دنیا میں غالب کرنے کے لئے ان دونوں مشرک سلطنتوں سے سابقہ پیش آنا لازمی تھا۔ خدا نے یہ کیا کہ عین اسی زمانہ میں دونوں سلطنتوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ ان کی یہ لڑائی نسلوں تک جاری رہی۔ ایک بار ایرانی اٹھے اور رومیوں کی طاقت کو تہس نہس کرکے ان کی مملکت کے بڑے حصہ پر قابض ہوگئے۔ دوسری بار رومی اٹھے اور انھوں نے ایرانیوں کی طاقت کو بالکل توڑ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ بنو اسماعیل (اصحاب رسول) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت منظم ہو کر اٹھے تو انھوں نے بے حدکم عرصہ میں ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ کو فتح کر ڈالا اور ہر طرف شرک کو مغلوب اور توحید کو غالب کر دیا۔ اس سلسلہ میں یہاں پروفیسر ہٹی کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے :

The enfeebled condition of the rival Byzantines and Sasanids who had conducted internecine against each other for many genera- tions, the heavy taxes, consequent upon these wars, imposed on the citizens of both empires and undermining their sense of loyalty., ------- all these paved the way for the surprisingly rapid progress of Arabian arms. Philip K. Hitti, History of the Arabs, London 1970, p. 142–43 رومی اور ایرانی سلطنتوں کی باہمی رقابت نے دونوں کو شدید طور پر کمزور کر دیا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہلاکت خیز جنگیں چھیڑ رکھی تھیں۔ یہ سلسلہ کئی نسل تک جاری رہا۔ اس کا خرچ پورا کرنے کے لئے رعایا پر بھاری ٹیکس لگائے گئے۔ جس کے نتیجہ میں رعایا کی وفاداری اپنی حکومتوں کے ساتھ باقی نہ رہی۔ اس قسم کی چیزیں تھیں جنہوں نے عرب ہتھیاروں کو موقع دیا کہ وہ رومی اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page