Al-Risala · August 1984 · page 35

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵

ایرانی علاقوں میں تعجب خیز حد تک کامیابی حاصل کر سکیں۔

مورخین نے عام طور پر اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ تاہم وہ اس کو ایک عام طبیعی واقعہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ غیر معمولی واقعہ ایک خدائی منصوبہ تھا جو خاتم النبین کی تائید کے لئے خصوصی طور پر ظاہر کیا گیا۔ ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں " اسلام “ کے عنوان سے جو مقالہ ہے اس میں عیسائی مقالہ نگار نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا: Its advent changed the course of human history. یہ ایک حقیقت ہے کہ صدر اول کے اسلامی انقلاب کے بعد انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ اور ان تمام تبدیلیوں کی اصل یہ تھی کہ دنیا میں شرک کا تسلسل ختم ہو کر توحید کا تسلسل جاری ہوا۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے اور توحید تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس لئے جب یہ بنیادی واقعہ ہوا تو اسی کے ساتھ انسان کے اوپر تمام خوبیوں کا دروازہ بھی کھل گیا جو شرک کے غلبہ کے سبب سے اب تک اس کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

اب تو ہماتی دور ختم ہو کر علمی دور کا آغاز ہوا۔ انسانی امتیاز کی بنیاد ڈھہ گئی اور اس کے بجائے انسانی مساوات کا زمانہ شروع ہوا۔ نسلی حکمرانی کی جگہ جمہوری حکمرانی کی بنیادیں پڑیں۔ مظاہر فطرت جو تمام دنیا میں پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے، پہلی بار تحقیق اور تغیر کا موضوع قرار پائے، اور اس طرح حقائق فطرت کے کھلنے کا آغاز ہوا۔ یہ در اصل توحید ہی کا انقلاب تھا جس سے ان تمام انقلابات کی بنیاد پڑی جو بالآخر اس مشہور واقعہ کو پیدا کرنے کا سبب بنے جس کو جدید ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے دعا فرمائی تھی کہ خدا یا مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ خدایا، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا (ابراہیم ۳۶)

سوال یہ ہے کہ بتوں نے کس طرح لوگوں کو گمراہ کیا۔ بتوں (اصنام) میں وہ کون سی خصوصیت تھی جس کی بنا پر وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کا راز اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب یہ دیکھا جائے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں وہ کون سے بت تھے جن کی بابت آپ نے یہ الفاظ فرمائے۔ یہ بت سورج، چاند اور ستارے تھے۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں جو مہذب دنیا تھی اس میں ہر جگہ آسمان کے ان روشن اجرام کی پرستش ہوتی تھی جن کو سورج، چاند اور ستارے کہا جاتا ہے۔ اسی سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ بت کیوں کر لوگوں کو گمراہ کر پاتے تھے۔ خدا اگر چہ سب سے بڑی حقیقت ہے مگر وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برعکس

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page