اسلامی انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶
سورج ، چاند اور ستارے ہر آنکھ کو جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی جگمگاہٹ کی بنا پر لوگ ان کے فریب میں آگئے اور ان سے متاثر ہو کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ ان روشن اجسام کا غلبہ انسان کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوا کہ وہی پوری انسانی فکر پر چھا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتیں بھی انہیں کی بنیاد پر قائم ہونے لگیں۔ اس زمانہ کے بادشاہ اپنے آپ کو سورج کی اولاد اور چاند کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرنے لگے۔ پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ توحید کو غالب کر کے اس دور کو ختم کیا گیا۔ اس وقت غلبہ توحید کا جو منصوبہ بنایا گیا اس کے دو خاص مرحلے تھے۔ پہلا مرحلہ وہ تھا جس کو قرآن میں قاتلوهم حتى لا تكون فتنة و يكون الدين كله لله (الانفال ۳۹) کہا گیا ہے۔ اس آیت میں " فتنة “ سے مراد شرک جارح ہے۔ قدیم زمانہ میں شرک کو جارحیت کا موقع اس لئے حاصل تھا کہ اس زمانہ میں حکومت کی بنیاد شرک پر قائم ہو گئی تھی۔ شرک کو مکمل طور پر حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسی حالت میں جب توحید کی دعوت دی جاتی تو وقت کے حکمرانوں کو یہ محسوس ہونے لگتا کہ یہ دعوت ان کے حق حکمرانی کو شبہ تعکرر رہی ہے۔ چنانچہ وہ توحید کے داعیوں کو کچلنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ۔ قدیم زمانہ میں اعتقادی جارحیت کا اصل سبب یہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو یہ حکم ہوا کہ علم برداران شرک سے لڑو اور شرک کی اس حیثیت کا خاتمہ کر دو کہ وہ داعیان توحید کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا سکیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ شرک کا رشتہ سیاست سے کاٹ دیا جائے۔ شرک اور سیاست دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ رسول اور آپ کے اصحاب نے یہ مہم پوری طاقت کے ساتھ شروع کی۔ ان کی کوششوں سے پہلے عرب میں شرک کا زور ٹوٹا۔ اس کے بعد قدیم آباد دنیا کے بیشتر علاقہ میں مشرکانہ نظام کو مغلوب کر کے ہمیشہ کے لئے شرک کی جارحانہ حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اب ہمیشہ کے لئے شرک الگ ہو گیا اور سیاسی اقتدار الگ۔
شرک کے اوپر توحید کے غلبہ کی مہم کا دوسرا مرحلہ وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي انفسهم حتى يتبين لهم انه الحق (حم السجدہ ۵۳) پہلے مرحلہ کا مطلب مظاہر فطرت سے سیاسی نظریہ اخذ کرنے کو ختم کرنا تھا۔ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پوری طرح انجام پا گیا۔ دوسرے مرحلہ کا مطلب یہ تھا کہ مظاہر فطرت سے توہمات کے پردہ کو ہٹا دیا جائے اور اس کو علم کی روشنی میں لایا جائے ۔ اس دوسرے مرحلہ کا آغاز دور نبوت سے ہوا اور اس کے بعد وہ موجودہ سائنسی انقلاب کی صورت میں تکمیل کو پہنچا۔
موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک اظہار ہے۔ یہاں مخلوقات کے آئینہ میں آدمی اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues