Al-Risala · August 1984 · page 37

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷

خالق کو پاتا ہے۔ وہ اس پر غور کر کے خدا کی قدرت اور عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر قدیم مشرکفکرہ افکار نے دنیا کی چیزوں کو پر اسرار طور پر مقدس بنا رکھا تھا۔ ہر چیز کے بارے میں کچھ توہماتی عقائد بن گئے تھے اور یہ عقائد ان چیزوں کی تحقیق و جستجو میں مانع تھے۔ توحید کے انقلاب کے بعد جب تمام دنیا خدا کی مخلوق قرار پائی تو اس کے بارے میں تقدس کا ذهن ختم ہوگئیا۔ اب دنیا کی ہر چیز کا بے لاگ مطالعہ کیا جانے لگا اور اس کی تحقیق شروع ہو گئی۔

اس تحقیق اور مطالعہ کے نتیجہ میں چیزوں کی حقیقتیں کھلنے لگیں۔ دنیا کے اندر قدرت کا جو مخفی نظام کارفرما ہے وہ انسان کے سامنے آنے لگا۔ یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب کی صورت میں وہ پیشین گوئی کامل صورت میں پوری ہو گی جس کا ذکر اوپر کی آیت (حم السجدہ ۵۳) میں ہے۔

جدید سائنسی مطالعہ نے کائنات کے جو حقائق انسان پر کھولے ہیں انھوں نے ہمیشہ کے لئے توہماتی دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ان دریافت شدہ حقائق سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ دینی عقائد اب محض مدعیانہ عقائد نہیں رہے بلکہ خود علم انسانی کے ذریعہ ان کا برحق ہونا ایک ثابت شدہ چیز بن گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ معلومات ایک مومن کے لئے اضافہ ایمان کا بے پناہ خزانہ ہیں۔ ان کے ذریعہ کائنات کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ اگر چہ بہت جزئی ہے تاہم وہ اتنا زیادہ حیرت ناک ہے کہ اس کو پڑھ کر اور جان کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوں۔ اس کا ذهن معرفت رب کی روشنی حاصل کرے ۔ اس کی آنکھیں خدا کی عظمت اور خوف سے آنسو بہانے لگیں۔ وہ آدمی کو اس درجہ احسان تک پہنچا دے جس کو حدیث میں تعبد اللہ کأنك تراه (اللہ کی عبادت اس طرح کرو گو یا تم اسے دیکھ رہے ہو) کہا گیا ہے۔ دور جدید میں احیاء اسلام موجودہ زمانہ میں تاریخ دوبارہ وہیں پہنچ گئی ہے جہاں وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں پہنچی تھی۔ قدیم زمانہ میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ اس طرح ہوا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر شخص جو انسانی نسل میں پیدا ہوتا وہ مشرک پیدا ہوتا۔ اب پچھلے چند سو سال کے عمل کے نتیجہ میں ملحدانہ افکار انسان کے اوپر غالب آگئے ہیں۔ علم و عمل کے ہر شعبہ میں الحادی طرز ان اس طرح چھا گیا ہے کہ دوبارہ تاریخ انسانی میں الحاد کا تسلسل قائم ہو گیا ہے۔ اب ہر شخص جو پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں پیدا ہو، وہ ملحدانہ افکار کے زیر اثر پیدا ہوتا ہے۔ الحاد آج کا غالب دین ہے۔ اور اسلام کا احیاء موجودہ زمانہ میں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک الحاد کو فکری غلبہ کے مقام سے ہٹایا نہ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page