اسلامی انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸
موجودہ زمانہ میں احیاءِ اسلام کو ممکن بنانے کے لئے دوبارہ وہی دونوں طریقے اختیار کرنے ہیں جو پہلے غلبہ کے وقت اختیار کئے گئے تھے۔ یعنی افراد کی تیاری۔ اور مخالفینِ حق کی مغلوبیت۔ پہلا کام ہم کو خود اپنے وسائل کے تحت انجام دینا ہے۔ جہاں تک دوسرے کام کا تعلق ہے، اس کو موجودہ زمانہ میں دوبارہ خدا نے اسی طرح بہت بڑے پیمانہ پر انجام دے دیا ہے جس طرح اس نے دورِ اول میں انجام دیا تھا۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔
۱۔ موجودہ زمانہ میں احیاءِ اسلام کی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے سب سے پہلے افراد کار کی ضرورت ہے۔ گویا اب دوبارہ ایک نئے انداز سے وہی چیز درکار ہے جو حضرت ابراہیم کے منصوبہ میں مطلوب تھی۔ یعنی حقیقی معنوں میں ایک مسلم گروہ کی تیاری۔
موجودہ زمانہ میں اسلامی احیاء کی مہم چلانے کے لئے جو افرادِ کار ہیں وہ عام قسم کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے اسلام ایک دریافت (Discovery) بن گیا ہو۔ وہ واقعہ جو سب سے زیادہ کسی انسان کو متحرک کرتا ہے وہی دریافت کا واقعہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کو دریافت کے درجہ میں پائے تو اچانک اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے۔ یقین، حوصلہ، عزم، مردانگی، فیاضی، قربانی، اتحاد، غرض وہ تمام اوصاف جو کوئی بڑا کام کرنے کے لئے درکار ہیں وہ سب دریافت کی زمین پر پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مغربی اقوام میں جو اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں وہ سب اسی دریافت کا نتیجہ ہیں۔ مغربی قوموں نے روایتی دنیا کے مقابلہ میں سائنسی دنیا کو دریافت کیا ہے۔ یہی دریافت کا احساس ہے جس نے مغربی قوموں میں وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کر دئے ہیں جو آج ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ قرنِ اول میں اصحابِ رسول کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ان کو خدا کا دین بطورِ دریافت کے ملا تھا۔ انھوں نے جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام کو پایا تھا۔ انھوں نے شرک کے مقابلہ میں توحید کو دریافت کیا تھا ان پر دنیا کے مقابلہ میں آخرت کا انکشاف ہوا تھا۔ یہی چیز تھی جس نے ان کے اندر وہ غیر معمولی اوصاف پیدا کر دئے جن کو آج ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ آج اگر اسلامی احیاء کی مہم کو موثر طور پر چلانا ہے تو دوبارہ ایسے انسان پیدا کرنے ہوں گے جنھیں اسلام دریافت کے طور پر ملا ہو نہ کہ محض نسلی وراثت کے طور پر۔ ۲۔ اسلام چودہ سو سال پہلے شروع ہوا۔ اس کے بعد اس کی ایک تاریخ بنی، تمدنی عظمت اور سیاسی فتوحات کی تاریخ۔ آج جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں وہ اسی تاریخ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ جس قوم کی بھی یہ صورت حال ہو وہ ہمیشہ قریبی تاریخ میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔ وہ تاریخ سے گزر کر ابتدائی اصل تک نہیں پہنچتی۔ یہی معاملہ آج مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues