اسلامی انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳۹
شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنا دین تاریخ سے اخذ کر رہے ہیں نہ کہ حقیقتاً قرآن اور سنت رسول سے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آج کے مسلمانوں کے لئے فخر کی چیز بنا ہوا ہے نہ کہ ذمہ داری کی چیز۔ ان کے افکار و اعمال میں یہ نفسیات اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو قرآن وسنت میں دیکھئے تو وہ سراسر ذمہ داری اور مسئولیت کی چیز نظر آئے گا۔ اس کے برعکس اسلام کو جب اس کی تمدنی تاریخ اور سیاسی واقعات کے آئینہ میں دیکھا جائے تو وہ فخر اور عظمت کی چیز معلوم ہونے لگتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی انقلابی تحریکیں اسی جذبہ فخر کے تحت اٹھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقتی ہنگامے پیدا کر کے ختم ہو گئیں۔ کیوں کہ فخر کا جذبہ نمائش اور ہنگامے کی طرف لے جاتا ہے۔ اور مسئولیت کا جذبہ حقیقی اور سنجیدہ عمل کی طرف۔
اسلامی احیاء کی مہم کو موثر طور پر چلانے کے لئے وہ افراد درکار ہیں جنھوں نے اسلام کو قرآن و حدیث کی ابتدائی تعلیمات سے اخذ کیا ہو نہ کہ بعد کو بننے والی تمدنی اور سیاسی تاریخ سے۔ قرآن و حدیث سے دین کو اخذ کرنے والے لوگ ہی سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کے تحت کوئی حقیقی مہم چلا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تاریخ سے اپنا دین اخذ کریں وہ صرف اپنے فخر کا جھنڈا بلند کریں گے، وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا ثبوت نہیں دے سکتے۔
مسلمان موجودہ زمانہ میں ایک شکست خوردہ قوم بنے ہوئے ہیں۔ پوری مسلم دنیا پر ایک قسم کا احساس مظلومی (Persecution complex) چھایا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی تاریخ سے دین کو اخذ کرنا ہے۔ ہم نے تاریخی عظمت کو دین سمجھا۔ ہم نے "لال قلعہ" اور "فتح پور سیکری" میں اپنی اسلامیت کا تشخص دریافت کیا۔ چوں کہ موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں نے ہم سے یہ چیزیں چھین لیں، اس لئے ہم فریاد و ماتم میں مشغول ہو گئے۔ اگر ہم ہدایت ربانی کو دین سمجھتے تو ہم کبھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ وہ ایسی چیز ہے جس کو کوئی طاقت ہم سے کبھی چھین نہیں سکتی۔ ہم نے چھن جانے والی چیزوں کو اسلام سمجھا اس لئے جب وہ چھن گئی تو ہم شکایت اور محرومی کا پیکر بن کر رہ گئے۔ اگر ہم نہ چھننے والی چیز کو اسلام سمجھتے تو ہمارا کبھی وہ حال نہ ہوتا جو آج ہر طرف نظر آرہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جو چیز ہمارے پاس ابھی تک بغیر چھنی ہوئی محفوظ ہے اس کا ہمیں شعور نہیں۔ اور جو چیز ہم سے چھن گئی ہے اس کے لئے ہم شکایت اور احتجاج میں مصروف ہیں۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان دوسری قوموں سے لڑائی جھگڑے میں مصروف ہیں۔ وہ اسلام کو اپنی قومی عظمت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو لوگ انھیں اس عظمت کو چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues