Al-Risala · August 1984 · page 40

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰

خلاف وہ لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔ کہیں یہ لڑائی الفاظ کے زیرعمل ہو رہی ہے اور کہیں ہتھیاروں کے ذریعہ۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کے پورے رویہ کو منفی بنا دیا ہے۔ اسلام اگر ان کو ربانی ہدایت کے طور پر ملتا تو وہ محسوس کرتے کہ ان کے پاس دوسری قوموں کو دینے کے لئے کوئی چیز ہے۔ وہ اپنے کو دینے والا سمجھتے اور دوسرے کو لینے والا۔ جب کہ موجودہ حالت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ چھیننے ہوئے لوگ ہیں اور دوسرے چھینے والے لوگ۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان حقیقی رشتہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر تاریخی اسلام کو اسلام سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دوسری قومیں ہمارے لئے صرف حریف اور رقیب بن کر رہ گئی ہیں۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان جب تک یہ حریفانہ فضا باقی ہے، اسلامی احیاء کا کوئی حقیقی کام شروع نہیں کیا جاسکتا۔

پہلے ہی مرحلہ میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام مسلمانوں کو حریفانہ نفسیات سے پاک کر دیا جائے۔ مگر کم سے کم ایک ایسی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جس کے افراد اپنی حد تک اس ذہنی فضا سے نکل چکے ہوں ۔ جن کے اندر ایسی فکری تبدیلی آچکی ہو کہ دوسری قوموں کو وہ اپنا مدعو سمجھیں نہ کہ مادی حریف اور رقومی قریب۔ یہ بظاہر سادہ سی بات انتہائی مشکل بات ہے۔ اس کے لئے اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اپنے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ ہم یک طرفہ طور پر تمام شکایتوں کو بھلا دیں۔ ہر قسم کے مادی نقصانات کو گوارا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ داعی اور مدعو کا رشتہ داعی کی طرف سے یک طرفہ قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں بلا شبہ یہ سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔

یہ اور اس طرح کے دوسرے اوصاف ہیں جو ان لوگوں میں ہونا ضروری ہیں جو موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کے لئے اٹھیں۔ ایسے افراد تیار کرنے کے لئے موجودہ زمانہ میں دوبارہ اسی قسم کا ایک منصوبہ درکار ہے جو دور اول میں خیر امت کے اخراج (آل عمران ۱۱۰) کے لئے ذریعہ لایا گیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج یہ ضرورت ہے کہ جدید طرز کی ایک اعلیٰ تربیت گاہ قائم کی جائے۔ یہ تربیت گاہ تمدنی ماحول سے الگ قدرت کی بے آمیز فضا میں قائم ہونی چاہئے۔ یہ تربیت گاہ گویا دوبارہ قوم کے کچھ اعلیٰ افراد کو وادی غیر ذی زرع میں بسانے کے ہم معنی ہوگی۔

مذکورہ تربیت گاہ کو کامیاب طور پر چلانے کے لئے کچھ ایسے ابراہیمی والدین درکار ہیں جو اپنی اولاد کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ ان کی ذہین اولاد کو وقت

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page