Al-Risala · August 1984 · page 41

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱

کے اعلیٰ معاشی مواقع سے محروم کر کے ایک ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جہاں سب کچھ دے کر بھی تعلق باللہ اور فکر آخرت کے سوا کوئی اور چیز نہ ملتی ہو۔ اس طرح کی ایک تربیت گاہ ، غلپ ہٹی کے مذکورہ الفاظ میں، دوبارہ ایک قسم کی ” نرسری آف ہیروز “ بنانے کے ہم معنی ہوگی۔ جب تک اس قسم کے افراد کی ایک قابل لحاظ ٹیم تیار نہ ہو جائے ، احیاء اسلام کی جانب کوئی حقیقی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس قسم کی تربیت گاہ کا قیام گویا جدید زمانہ کے لحاظ سے اس آیت قرآنی کی تعمیل ہوگی ــــــــــ ولو لا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا فى الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم ولعلهم يرجعون۔ یعنی قوم کے کچھ ذہین افراد کو عام ماحول سے الگ کر کے ایک علیحدہ ماحول میں لایا جائے اور وہاں متعین مدت تک خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعہ انہیں اس کے لئے تیار کیا جائے کہ وہ موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلاسکیں۔ وہ اہلِ عالم کے لئے منذر اور مبشر بن سکیں۔

دور اول میں اسلامی انقلاب کو ممکن بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اہتمام یہ کیا کہ ایران اور روم کی سلطنتیں جو اس زمانہ میں دین توحید کی سب سے بڑی حریف تھیں، ان کو باہم ٹکرا کر اتنا کمزور کر دیا کہ اہل اسلام کے لئے ان کو مغلوب کرنا آسان ہو گیا۔

خدا کی یہی مدد موجودہ زمانہ کے اہل ایمان کے لئے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ اور وہ ہے کائنات کے بارہ میں ایسی معلومات کا سامنے آنا جو دینی حقیقتوں کو معجزاتی سطح پر ثابت کر رہی ہیں۔ قدیم زمانہ میں تو ہماتی طرز فکر کا غلبہ تھا ، اس بنا پر علم عالم کائنات کے بارہ میں انسان نے عجیب عجیب بے بنیاد رائیں قائم کر رکھی تھیں۔ کائنات کو قرآن میں آلا رب در کرشمہ خدا) خدا کہا گیا ہے۔ مگر یہ خدائی کرشمہ تو ہماتی مفروضوں کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ دور اول کے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ مظاہر فطرت جو اس سے پہلے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے وہ انسان کے لئے تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئے۔ اس طرح تاریخ انسانی میں پہلی بار واقعات فطرت کو خالص علمی انداز میں جاننے کا ذہن پیدا ہوا۔ یہ ذہن مسلسل بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ یورپ پہنچا۔ یہاں ترقی پا کر وہ اس انقلاب کا سبب بنا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔

سائنس نے گویا تو ہماتی پردہ کو ہٹا کر کرشمہ خدا کا کرشمہ خدا ہونا ثابت کر دیا۔ اس نے مظاہر فطرت کو ” معبود “ کے مقام سے ہٹا کر ” مخلوق “ کے مقام پر رکھ دیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ چاند، جس کو قدیم انسان معبود سمجھ کر پوجتا تھا ، اس پر اس نے اپنے پاؤں رکھ دئے اور وہاں اپنی مشینیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page