ایک چھوڑی ہوئی سنت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
بھی ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف سازش کرتا ہو اسے تو فوراً اُس کی سازش کو بے نقاب کیا جائے اور ہر قسم کے پر امن ذرائع کو اختیار کر کے اسے ابتدائی مرحلہ ہی میں ناکام بنا دیا جائے۔ اس سلسلے میں مراد آباد کے فساد کی مثال لیجیے۔ یہاں مسلمانوں نے غیر مسلموں کی ایک شادی پارٹی کو روکا اور کہا کہ مسجد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے اپنا جلوس لے جاو۔ غیر مسلم اس پر راضی نہیں ہوئے تکرار بڑھتی گئی یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کو مارا اور انہیں بھگا دیا۔
یہ واقعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو ہوا۔ اس کے بعد دو ہفتہ تک مکمل خاموشی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۳ اگست ۱۹۸۰ کو زبردست فساد ہوا جس میں مسلمانوں کی معاشیات تباہ کر دی گئیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ۱۳ اگست ان کی عید کا دن تھا۔ اس روز مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عید گاہ میں جمع تھی۔ چنانچہ پیشگی منصوبہ کے تحت عید گاہ میں خنزیر داخل کیا گیا۔ یہاں پہلے سے غیر مسلم لڑکے مسلمانوں کے لباس میں عید گاہ کے اندر بٹھا دئے گئے تھے۔ انھوں نے خنزیر کے داخل ہوتے ہی پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کے حفاظتی دستہ کو بھی مارا۔ اس طرح اشتعال پیدا ہوا اور فساد پھوٹ پڑا۔
مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ ۲۷ جولائی سے لے کر ۱۳ اگست تک مسلمانوں کے خلاف تیاری کی گئی مگر شہر کے مسلمانوں کو آخر وقت تک اس کی اطلاع نہ ہوسکی۔ اسی بے خبری میں اس سوال کا جواب چھپا ہوا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے مسلمان ایک ہی شکایت لئے بیٹھے ہیں۔ وہ آج تک اس کا علاج نہ کر سکے۔ وہ یہ کہ ان کے خلاف منصوبہ بند فساد کرائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دوسرے لوگ اگر منصوبہ بند فساد کے قصور وار ہیں تو مسلمان اس کے قصور وار ہیں کہ وہ اپنے خلاف منصوبوں سے اس وقت تک باخبر نہیں ہوتے جب تک وہ اپنے آخری انجام کو نہ پہنچ جائیں۔ فساد کے بعد تمام مسلم قائدین تیز رفتار سواریوں پر دوڑتے ہیں تاکہ وہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر انھیں فسادیوں کی تخریب کاری کی اطلاع دے سکیں۔ اس قسم کی سرگرمیاں سراسر بے فائدہ ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ ہماری قیادت کو فسادیوں کے منصوبہ کی پیشگی طور پر مکمل اطلاع ہو جائے اور وہ حادثہ سے پہلے ذمہ داروں کو باخبر کرنے کے لئے سرگرم ہو جائیں۔ اور اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی تربیت کے لئے۔ فساد کی روک تھام کے لئے ہمیں جو کچھ کرنا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیر اہی اخبار کی سنت کو زندہ کیا جائے محض شکایت اور احتجاج کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues