ایک چھوڑی ہوئی سنت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خبروں کی فراہمی کا شعبہ حقیقتاً جنگ کا شعبہ نہ تھا بلکہ وہ تمام تر امن کا شعبہ تھا۔ یعنی اس کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کے جارحانہ عزائم سے پیشگی طور پر باخبر ہو کر اس کو ناکام بنانا تاکہ اسلام کی دعوتی اور تعمیری سرگرمیوں کو خلل اندازی سے بچایا جاسکے۔
یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصول ہونا چاہئے۔ ان کے یہاں اعلیٰ پیمانہ پر خبروں کی فراہمی کا شعبہ ہو۔ مگر اس لئے نہیں کہ جب کسی فریق کی طرف سے تشدد کے سامان جمع کرنے کی خبر ملے تو ہم بھی تشدد کے سامان جمع کرنے میں لگ جائیں۔ موجودہ حالات میں اس قسم کی ہر کوشش صرف خودکشی کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں خبروں کی فراہمی کے شعبہ کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ جب بھی کسی " سازش" کی خبر ملے تو اس کو حکمت سے دفع کیا جائے " آگ " کو " پانی " کے ذریعہ بجھانے کی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ اور یہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ اس سے زیادہ ممکن اور کوئی چیز خدا کی اس دنیا میں نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues