سابق حاملین کتاب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲
سابق حاملین کتاب
یہود ماضی میں خدا کی کتاب کے حامل بنائے گئے تھے۔ یہود کے ماضی میں امت مسلمہ کے مستقبل کے لئے سبق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ابتدائی سورتوں میں کثرت سے یہود کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ بگاڑ کی جو صورتیں یہود کے ساتھ پیش آئیں وہ سب کی سب مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آئیں گی۔ لتتبعن سنن من کان قبلکم شبراً بشبر وذر اعا بذراع حتی لو دخلوا جحر ضب لتبعتموهم بخاری ومسلم)
حقیقت یہ ہے کہ جو قومیں خدا کی کتاب کی حامل بنائی جاتی ہیں ، ان کا کیس ہمیشہ یکساں ہوتا ہے ۔ ان کی کامیابی کا بھی ایک ہی اصول ہے اور ان کی ناکامی کا بھی ایک ہی اصول۔ اس اعتبار سے یہود کی تاریخ ہر اس قوم کی تاریخ ہے جو خدا کی کتاب کی حامل بنائی جائے۔ اس میں مسلمانوں کے لئے بھی اتنا ہی سبق ہے جتنا خود یہود کے لئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل ( یہود) پر خدا کے انعامات کا جو آغاز ہوا تھا ، اس کی تکمیل اس طرح ہوئی کہ انھیں خدا کی مدد سے یہ موقع ملا کہ انھوں نے فلسطین میں داخل ہو کر پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یہود کی تاریخ مسلسل اتار چڑھاؤ کی تاریخ ہے۔ نیک عملی پر انعام اور بد عملی پر سزا۔
سموئیل نبی کے زمانہ میں یہود کی خود مختار اور متحدہ سلطنت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ سلطنت ان کے تینوں حکمرانوں ( طالوت ، داؤد ، سلیمان) کے زمانہ تک رہی جن کا مشترک دور ۱۰۲۰ ق م سے لے کر ۹۲۶ ق م تک ہے۔
حضرت سلیمان کے بعد فلسطین کی سلطنت دو الگ الگ حصوں (اسرائیل اور یہودیہ) میں تقسیم ہو گئی۔ ان کا دینی بگاڑ اور سیاسی اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ نویں صدی قبل مسیح میں ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اشوری حکمرانوں نے فلسطین پر حملے شروع کئے اور بالآخر سلطنت اسرائیل کا خاتمہ کر دیا۔
۵۸۰ ق م میں بابل (عراق) کا حکمران نبوخذ نصر اٹھا اور شام پر قبضہ کر کے فلسطین کی سرحد تک پہنچ گیا۔ اس کے خوف سے یہودیہ (فلسطین) کا اسرائیلی بادشاہ یہو یاکم اس کو خراج دینے پر مجبور ہو گیا تا ہم کچھ عرصہ بعد یہو یا کم کے دماغ میں آیا کہ مصر کا ساتھ دینا اس کے لئے زیادہ مفید ہو گا۔ چنانچہ اس نے شاہ بابل
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues