سابق حاملین کتاب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
نے بغاوت کردی اور اس کو خراج دینا بند کر دیا۔
اس کے نتیجہ میں شاہِ بائبل اسرائیل پر غضب ناک ہو گیا اور فلسطین پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگا۔ اس درمیان میں یہویاکم کا انتقال ہو گیا اور اس کا لڑکا یہوخیم تخت پر بیٹھا۔ بائبل کی فوجوں نے فلسطین پر حملہ کر کے اس کو زیر کر لیا اور شاہ یہوخیم کو گرفتار کر کے بابل لے گیا۔ بابل کے حکمراں نے فلسطین کی یہودیہ سلطنت کا نیا انتظام اس طرح کیا کہ سابق شاہ کے چچا صدقیاہ کو اپنا ماتحت عامل مقرر کر دیا۔ اس وقت بنی اسرائیل میں یرمیاہ نبی اٹھے۔ انھوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم لوگ حقیقت سے نہ لڑو اور موجودہ سیاسی نظام کو تسلیم کر لو۔ اور حکومت سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر دینی اور تعمیری انداز میں کام کرو۔ مگر بنی اسرائیل کے اندر جھوٹے لیڈر اٹھے۔ انھوں نے جذباتی تقریریں کیں اور رومانی اشعار سنائے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل جھوٹی خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ نہ اختیار کر سکے۔ ان کا بادشاہ صدقیاہ بغاوت پر آمادہ ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بابل کے حکمراں بُو نخد نصر نے دوبارہ فلسطین پر حملہ کر دیا۔ کئی مہینے کے محاصرہ کے بعد اس نے یروشلم کو اور یہودیوں کے عبادت خانہ کو بالکل تباہ کر ڈالا۔ یہ واقعہ ۵۸۶ ق م میں پیش آیا۔
شاہ صدقیاہ نے اس کے بعد بھاگنے کی کوشش کی۔ مگر وہ پکڑ اگیا اور دوسرے بہت سے اعیان و اکابر کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ بے شمار اسرائیلی پکڑکر بابل لے جائے گئے تاکہ وہ بابلیوں کےلیے بیگار کا کام کر سکیں۔
یہودی (جو دور قدیم کے مسلمان تھے) ان کے ساتھ پچھلی تاریخ میں کثرت سے اس طرح کے شدید واقعات پیش آئے ہیں۔ وہ لوگ بطور خود ان واقعات کو ظالموں کے ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر بابل کے نزدیک ان واقعات کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ وہ ان تمام واقعات کو خود یہو دیوں کے خانہ میں ڈالتی ہے۔ اس کے نزدیک یہ یہودیوں کے اپنے بگاڑ کے نتیجہ میں پیش آنے والی خدائی سزائیں ہیں نہ کہ حقیقت ظالم کا ظلم۔
اس سلسلہ میں یہود کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دورِ زوال میں ان کے یہاں ایسا ہوا کہ کثرت سے خوش خیال قائدین کھڑے ہو گئے۔ ایسے لوگوں کو بابل میں "جھوٹی نبوت کرنے والے" کہا گیا ہے۔ بابل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ یہود کی تاریخی عظمت بیان کر کے انھیں جھوٹے فخر کی شراب پلاتے ۔ وہ مبالغہ آمیز انداز میں یہود کی حیثیت کو بڑھاتے اور ان کے دشمنوں کو گھٹاتے ۔ وہ جذباتی الفاظ بول کر انھیں خیالی دنیا میں مگن رکھتے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues