He who likes to generalize generally lies.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۹
ساتھ مل کر حکمراں پارٹی کا نگرس ، کوشکست دی جائے۔ یہ حل اتنا پسند کیا گیا کہ مسلمانوں کی بھیڑ اس کے پیچھے دوڑ پڑی اور1966 میں مذکورہ اسلامی ادارہ ہندوستان کی مسلم سیاست کا مرکز بن گیا۔
یہ مذکورہ اسلامی ادارہ کا وہ حل تھا جو اس نے ملت کے مسائل کے لئے پیش کیا تھا۔ مگر اسی ادارہ میں اس کا اپنا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کے لئے اس نے بالکل مختلف انداز اختیار کیا۔ ملت کے مسئلہ کا حل دررسانی میں تھا اور اپنے مسئلہ کا حل تالیف قلب میں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ عظیم اسلامی ادارہ ہندوستان کے جس شہر میں واقع ہے وہیں ایک بڑی یونی ورسٹی بھی قائم ہے۔ یہ یونیورسٹی ادارہ سے اس قدر قریب ہے کہ اس کا ایک ہوٹل مذکورہ ادارہ کی دیوار سے ملا ہوا ہے۔
یہ پڑوس اس اسلامی ادارہ کے لئے ایک مستقل مسئلہ تھا۔ یونی ورسٹی ہاسٹل کے لڑکے جو سب کے سب غیر مسلم تھے ، مستقل طور پر اسلامی ادارہ کے لوگوں کو پریشان کرتے ، وہ گالی دیتے ، پتھر پھینکتے ، مذاق اڑاتے اور طرح طرح کی دوسری حرکتیں کرتے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامی ادارہ کے لوگ مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کریں تاکہ انھیں ادارہ کو جلانے اور پھونکنے کا موقع مل جاتے۔
یہ صورت حال کئی سال تک باقی رہی۔ اس درمیان میں حکومت کے ذمہ داروں سے شکایات کی گئیں، پولیس بلائی گئی، مگر کسی طرح مسئلہ حل نہیں ہونا تھا۔ اس کے بعد درس گاہ کے ذمہ داروں نے ایک حکیمانہ تدبیر اختیار کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی ادارہ کے ذمہ داروں نے پتہ لگایا کہ یونیورسٹی ہاسٹل کے لیڈر طلبہ کون ہیں۔ ان سے ملاقات کر کے انھیں اپنے یہاں چائے پر بلایا گیا۔ ان سے نرم باتیں کی گئیں۔ ان کو تحفے پیش کئے گئے اور پھر یہ تجویز رکھی گئی کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور ادارہ کے نوجوانوں کے درمیان ہا کی میچ ہو۔ تجویز منظور ہوگئی۔
اب اسلامی ادارہ کے ذمہ داروں نے یہ کیا کہ ادارہ کے ہوشیار کھلاڑیوں کی ایک ٹیم بنائی۔ اور ان کو پیشگی طور پر یہ سمجھادیا کہ تم کو یہ میچ جیتنے کے لئے نہیں کھیلنا ہے بلکہ اس لئے کھیلنا ہے کہ تم ہار جاؤ۔ منصوبہ یہ تھا کہ بالقصد یونی ورسٹی کے طلبہ کو کھیل میں جتا یا جائے تاکہ انھیں ہیرو بنایا نے اور ان کی تالیف قلب کرنے کا پورا موقع ملے۔
مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان میچ ہوا ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق اسلامی ادارہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونی ورسٹی ہاسٹل کے لڑکوں کو موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں۔ چنانچہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues