Al-Risala · October 1984 · page 17

موقع نہ کھوئیے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷

اس کے سر کی کوئی رگ شدید طور پر متاثر ہوگئی۔ اس لڑکے نے ہمیشہ کے لئے اپنا حافظہ کھو دیا۔ وہ کسی کام کے قابل نہ رہا۔ بظاہر وہ دیکھنے میں پہلے کی طرح تھا مگر اب اس کو کوئی چیز یاد نہیں رہتی تھی یہاں تک کہ وہ بیکار ہو کر رہ گیا۔ باپ نے وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر ایک نادانی کی تھی مگر اپنے اس فعل پر بے پناہ شرمندگی اس کو ہمیشہ باقی رہی۔ اگر اس نے وقتی طور پر برداشت سے کام لیا ہوتا تو وہ منتقل شرمندگی سے بچ جاتا۔

داتانج بخش کا قول ہے کہ " غصہ عقل کو کھا جاتا ہے" گوسوامی تلسی داس نے کہا، جہاں غصہ ہے وہاں بربادی ہے۔ ان دونوں اقوال کا مطلب ایک ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کے لئے بھی قاتل ہے اور اس کے جسم کے لئے بھی۔ وہ اس کی پوری شخصیت کو نگل جاتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو غصہ سے بچائے۔

ڈاکٹر آلیورٹ نے بتایا ہے کہ غصہ کرنے سے عضلات (پٹھوں) کا تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ جسم کی قوت غیر معمولی طور پر استعمال ہو کر تکان کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر آدمی کے اندر عمل کی قوت گھٹ جاتی ہے۔

دوسرے ڈاکٹر جے اے شنڈلر کا کہنا ہے کہ غصہ کی حالت میں آنتوں میں اینٹھن آ جاتی ہے۔ دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر غصہ شدید ہے تو اس کا بھی امکان ہے کہ دماغ کی رگ پھٹ جائے اور آدمی کی اچانک موت واقع ہو جائے۔

چیسٹر فیلڈ نے نہایت گہری بات کہی ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی شخص اگر اپنے غصہ پر قابو نہیں پاسکتا تو سمجھ لیجئے کہ وہ دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی چیز حاصل کرنے کے لئے دنیا پر قابو پانا پڑتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے وہ دنیا پر قابو پانے میں کس طرح کامیاب ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page