نظر یہ ارتقاء
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸
نظر یہ ارتقاء
چارلس ڈارون (۱۸۸۳ء - ۱۸۰۹) کے بعد عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اولاً موجودہ زمین ایک بے جان مادہ کی صورت میں وجود میں آئی۔ اس کے بہت عرصہ بعد تدرجی عمل کے نتیجہ میں زندگی کا ظر ہوا۔ ارتقاء کے نظریہ کا یہی تقاضا تھا ۔
کچھ لوگوں نے مزید آگے قدم بڑھایا اور ارتقائی مفروضات کی بنیاد پر قیاس کرتے ہوئے یہ رائے قائم کی کہ زمین پر زندگی کا ظہور تقریباً ۵۰۰ ملین سال پہلے ہوا ہے۔ تاہم بعد کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ سائنسی مفروضہ بھی ویسا ہی بے بنیاد تھا جیسا کسی علماء کا بائبل کی بنیاد پر حساب لگا کر یہ فرض کر لینا کہ آدم صرف چھ ہزار سال پہلے ظہور میں آئے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نظریہ پر مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔ متعدد ماہرین نے یہ دکھایا ہے کہ زندگی اگر محض ارتقائی عمل کے ذریعہ وجود میں آئی ہو تو اس کے لئے مذکورہ مدت (۵۰۰ ملین سال) سراسر ناکافی ہے۔ حتیٰ کہ زمین کی پوری عمر بھی اس کے لئے ناکافی ہے کہ یہاں ارتقاء کا عمل جاری ہو اور ڈارون کے سہ گانہ اصول کے مطابق بالآخر زندگی کی اعلیٰ قسمیں وجود میں آئیں۔
اس سلسلے میں تازہ خبر یہ ہے کہ سوویت روس کی ۲۷ ویں انٹرنیشنل جیولوجیکل کانگریس کے تحت ۴ اگست ۱۹۸۴ کو ماسکو میں ایک سمپوزیم ہوا۔ اس موقع پر روسی سائنسداں بورس سوکولوف (Boris Sokolov) نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اس مقالہ میں خالص ریاضیاتی اور سائنسی دلائل سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ زمین پر زندگی زمین کی پیدائش کے وقت ۴۰۰ ملین سال پہلے بیک وقت شروع ہوئی۔ یعنی جب زمین وجود میں آئی عین اسی وقت زندگی بھی ظاہر ہوگئی ( ہندوستان ٹائمس ۱۱ اگست ۱۹۸۴)
اگر یہ مان لیا جائے کہ زمین اور زندگی دونوں ایک ساتھ ظہور میں آئے تو نظریہ ارتقاء کی ساری عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔ یہاں ارتقاء کے حامی ایک دوگونہ مشکل میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ کہیں کہ زمین اور زندگی دونوں ایک ساتھ ظاہر ہو ہوئے تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر زندگی کے ارتقائی طور پر ظہور میں آنے کو کس طرح ثابت کریں اور اگر یہ مانیں کہ پہلے زمین بنی اس کے بعد ارتقائی عمل کے ذریعے دھیرے دھیرے زندگی کی قسمیں وجود میں آئیں تو انہیں نہیں معلوم کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دیں کہ زمین کی پیدائش سے اب تک کی مدت ان کے مفروضہ ارتقائی عمل کے لئے سراسر ناکافی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues