Al-Risala · October 1984 · page 19

کردار کا معاملہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹

کردار کا معاملہ

انسان مادہ کو تمدن میں تبدیل کر ہوتا ہے۔ وہ سادہ چیزوں کو استعمال کر کے شاندار شہر وجود میں لاتا ہے۔ ایسا کیوں کرتا ہے۔ اس کا راز صرف ایک ہے ۔ اور وہ ہے چیزوں کے اندر کچھ لازمی اوصاف کا ہونا۔ آدمی انہیں فطری خصوصیات کو دریافت کر کے انھیں کام میں لاتا ہے۔ یہ خصوصیات گویا چیزوں کا یکٹر (کردار) ہیں۔ ہر چیز کا ایک متعین کیریکٹر ہے جس کو وہ لازماً ادا کرتی ہے۔ یہی وہ کیریکٹر کی یقینیت ہے جس کی وجہ سے زندگی کی تمام سرگرمیاں اور ترقیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر یہ یقینیت باقی نہ رہے تو اچانک پورا انسانی تمدن کھنڈر ہو کر رہ جائے گا۔

اگر ایسا ہو کہ ایک دریا کے اوپر لوہے کا پل کھڑا کیا جائے اور پھر معلوم ہو کہ وہ موم کی طرح نرم ہے ۔ پتھر اور سیمنٹ کے ذریعہ کئی منزلہ بلڈنگ بنائی جائے اور وہ ریت کا ڈھیر ثابت ہو۔ انجن میں پٹرول بھرا جائے مگر جب انجن کو چلایا جائے تو پٹرول توانائی میں تبدیل نہ ہو۔ مقناطیسی میدان (Magnetic Field) اور حرکت (Motion) کو یکجا کیا جائے مگر الیکٹران متحرک ہو کر بجلی پیدا نہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں نے اپنا کیریکٹر کھو دیا ہے۔ اور اگر چیزیں اپنا متعین کیریکٹر کھو دیں تو تمدن کی تعمیر نا ممکن ہو جائے ۔ تمدن اسی وقت بنتا ہے جب کہ اس کے ضروری مادی اجزاء اس کردار کو ادا کریں جس کی ان سے توقع کی گئی ہے۔ اگر برف کی فیکٹری میں پانی جمنے کے بجائے بھاپ بن کر اڑنے لگے تو آئس فیکٹری کا وجود بے معنی ہو جاتے گا۔ اگر بھٹی میں لوہا ڈالا جائے اور وہ پگھلنے سے انکار کر دے تو سارا اشیبی کار و بار درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔

ٹھیک یہی معاملہ انسانی اجتماعیت کا بھی ہے۔ کسی اجتماعی نظام میں جو افراد منسلک ہوتے ہیں ان میں سے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام پر کوئی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی کردار کی صحیح ادائیگی پر اجتماعیت کے قیام کا انحصار ہے۔ جس طرح مادی چیزوں کی قیمت ان کے مخصوص کیر کٹر کی بنا پر ہے۔ اسی طرح انسان کی قیمت بھی اس میں ہے کہ وہ مختلف مواقع پر اس کیریکٹر کا ثبوت دے جس کی بحیثیت انسان اس سے امید کی جاتی ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان ثابت ہو نہ کہ غیر انسان۔

ایک انسان کو جہاں وعدہ پورا کرنا چاہئے وہاں وہ وعدہ خلافی کرے، جہاں اس کو شرافت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے وہاں وہ کمینہ پن کا طریقہ اختیار کرے۔ جہاں اس کو فیاضی دکھانا چاہیے وہاں وہ تنگ ظرفی کا ثبوت دے۔ جہاں اس کو بڑا پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے وہاں وہ چھوٹا پن دکھائے۔ جہاں اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page