فہم قرآن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱
فہم قرآن
فی صحیح البخاری من رواية ابی جحیفه وہب بن عبداللہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت وہب بن عبدالله السوائی ۔ قال قلت لعلی علی ابن ابی طالب سے پوچھا۔ کیا آپ کے پاس وحی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ۔ هل عندکم شئی الہی میں سے کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ہے۔ من الوحی ممعالیس فی القرآن ۔ فقال لا والذي انھوں نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے دانه فلق الحبة وبرأ النسمة الا فهماً يعطيه کو پھاڑا اور جاندار کو وجود بخشا، ہمارے پاس الله رجلاً فى القرآن (تفسیر ابن کثیر، کوئی مزید چیز نہیں سوا اس فہم کے جو اللہ ایک شخص الجز الثاني، صفحه ۷۷ )
کو قرآن میں عطا کرتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں ظاہری الفاظ کے سوا بھی ایک چیز ہے اور وہ اس کی گہری معنویت کا ادراک ہے، گویا ایک الفاظ قرآن ہے اور دوسرا فہم قرآن ۔ قرآن کا لفظی حصہ اس کے ظاہری مطالعہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔ مگر اس کے معنوی حصہ کو پانے کے لئے غور وفکر ضروری ہے۔ گہرے تدبر کے بغیر کوئی شخص قرآن کے گہرے معانی کو نہیں جان سکتا۔
قرآن کے ظاہری پہلو کو جاننے کے لئے عربی دانی کی ضرورت ہے اور قرآن کے معنوی پہلو کو جاننے کے لئے خدا دانی کی ۔ اگر آدمی کو عربی زبان سے واقفیت ہو تو وہ قرآن کو پڑھ کر اس کے ظاہری مفہوم کو سمجھ لے گا۔ مگر قرآن کی معنوی گہرائیوں کو وہی شخص پا سکتا ہے جو خدا کی چھپی ہوئی تجلیات سے اپنی آنکھوں کو روشن کر چکا ہو۔
دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ایک قرآن وہ ہے جو آدمی کو لکھی ہوئی کتاب کی صورت میں مل جاتا ہے ۔ اور دوسرا قرآن وہ ہے جس کو اسے خود دریافت کرنا ہے۔ ایک قرآن وہ ہے جو آیتوں کا ترجمہ جاننے سے حاصل ہو جاتا ہے ۔ دوسرا قرآن وہ ہے جس کو خود اپنی کوششوں سے پا نا پڑتا ہے۔
آدمی اگر صرف پہلے قرآن کو پائے تو قرآن سے اس کا تعلق اوپری انداز کا ہوگا۔ وہ بے روح طور پر اس کو مانتا رہے گا۔ مگر جو شخص دوسرے قرآن کو پالے اس کو قرآن سے زندہ تعلق ہو جاتا ہے۔ قرآن اس کے لئے حرکت اور یقین کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔ قرآن اس کے لئے ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس میں وہ جئے، جس سے وہ اپنے لئے غذا حاصل کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues