Al-Risala · October 1984 · page 22

علم اور تقویٰ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

علم اور تقویٰ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور وہ تم کو علم دے گا ( واتقواللہ و یعلمکم اللہ ، البقرۃ ۲۸۲) دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو پہچان دے گا ( ان تتقواللہ یجعل لكم فرقانا) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ ۔۔ وہ تم کو روشنی عطا فرمائے گا جس میں تم چلو گے (... ويجعل لكم نوراً تمشون بہ)

امام مالک نے امام شافعی سے ان کی جوانی کی عمر میں نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: اے لڑکے، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل کو روشنی سے بھر دیا ہے تو تم اس کو گناہ کی تاریکی سے نہ بجھاؤ ( یا فتی انی اریٰ اللہ قد ملأ قلبک نوراً فلا تطفئه بظلمة المعصية)

امام شافعی نے اپنے استاد وکیع بن الجراح سے اپنی ایک گفتگو کا ذکر اس طرح اشعار میں کیا ہے: شكوت الى وكيع سوء حفظی فارشدنی الی ترک المعاصی واخبرنی بان العلم نور ونور الله لا يھدى لعاصی میں نے شیخ وکیع سے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انھوں نے مجھے نصیحت کی کہ گناہوں کو چھوڑ دو اور انھوں نے مجھے بتایا کہ علم روشنی ہے اور اللہ کی روشنی کسی گناہگار کو راستہ نہیں دکھاتی۔ یہاں علم سے مراد معلومات نہیں، معرفت ہے۔ ایک حقیقی معرفت تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کے پاس الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر صحتِ فکر ہو۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر۔ یہی صحتِ فکر پیدا کرتا ہے۔

آدمی جتنا زیادہ سنجیدہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کے اندر صحتِ فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ سنجیدہ بناتا ہے، اس لئے اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ اس قابل بنا تا ہے کہ وہ صحیح اور درست طریقہ پر سوچ سکے۔

اللہ کا ڈر آدمی کے الفاظ اور معلومات کے لئے ایسا ہی ہے جیسے سانچہ خام اشیاء کے لئے۔ سانچہ خام اشیاء کو با معنی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ڈر الفاظ اور معلومات کو معرفت میں ڈھال دیتا ہے۔

کچھ علوم انسانی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علوم خدا کے مدرسہ میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page