Al-Risala · October 1984 · page 32

محبت کا نذرانہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲

محبت کا نذرانہ

قرآن کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : اور بعض انسان وہ ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے کرنا چاہئے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (البقره (۱۶۵ آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہارا چاہتا ہے ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔ اور اس کے لئے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور عقیدت کے جذبات اس کے لئے خاص ہو جاتے ہیں ۔ آدمی عین فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حب شدید کرے اور جس سے کوئی شخص حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔

موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہئے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جن کو آدمی بڑا سمجھ لیتا ہے اور پھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجّہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ لوگ اس طرح ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیں صرف خدا کا ہونا چاہئے۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃً اس لئے تھا کہ اس کو خدا سے پر کیا جائے وہاں کسی غیر خدا کو بٹھایا جاتا ہے۔

انسان کے پاس کسی کو دینے کے لئے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی با کمال ہستی کو پائے اور اس کی خدمت میں محبت سے کم درجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔ محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اور نہ کسی انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم چیز کا نذرانہ پیش کرے۔ اپنی چیزوں میں سے کم تر چیز کا ہدیہ خدا کو پیش کرنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پایا ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page