Al-Risala · October 1984 · page 33

غلط ذہن

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳

غلط ذہن

دہلی کے ایک مسلم محلہ میں ایک اردو پوسٹر نظر سے گزرا۔ سرخی یہ تھی:

" آگ اور خون میں نہائے ہوئے ہندوستانی مسلمان سوال کرتے ہیں "

یورپ کے سفر میں ایک مقام پر میں نے دیکھا کہ ایک پرجوش نوجوان عربی اور انگریزی میں چھپا ہوا ایک کتا بچہ تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے صفحہ اول پر یہ الفاظ درج تھے:

" ہندوستان جو مسلمانوں کے لئے عظیم مذبح بن چکا ہے "

ہندوستان میں جزئی طور پر ضرور ایسے بعض واقعات ہوئے ہیں جن پر مذکورہ بالا الفاظ صادق آتے ہیں، مگر پورے ملک کے بارہ میں اس قسم کے الفاظ بولنا سراسرخلاف واقعہ ہے۔ اور جو لوگ خلاف واقعہ بات پر اپنی عمارت کھڑی کرنا چاہیں وہ یقینی طور پر خدا کی مدد نہیں پا سکتے۔ اس طرح سوچنے اور بولنے میں ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی کبھی مسئلہ کے صحیح حل تک نہیں پہنچتا۔ " مسئلہ کا حل کیا ہے " اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی یہ جانے کہ " مسئلہ کی نوعیت کیا ہے "۔ مسئلہ کی نوعیت کو جانے بغیر مسئلہ کا حل متعین نہیں کیا جا سکتا۔ مذکورہ طرز پر سوچنے والے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کی نوعیت دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ مسئلہ کا حل پا سکیں۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ یہ طرزِ کلام آدمی سے حقیقت پسندی چھین لیتا ہے۔ دنیا کا نظام اس کے پیدا کرنے والے کے کامل حقیقت پسندی کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ یہاں کوئی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اصول فطرت سے کلی مطابقت ضروری ہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ دوسروں پر جھوٹا الزام دینے کو اپنا طریق فکر بنائیں وہ یقینی طور پر حقیقت پسندی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کیا ہے کہ وہ حقیقت کی دنیا میں بے حقیقت ہو کر رہ جائیں۔

اس قسم کی باتیں کرنے والے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ دو واقعات کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ ایسے لوگ جہاں بھی ہوں وہ ہمیشہ صرف فساد پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کی ایک حکومت یا ان کا ایک بھائی اگر 99 کام صحیح کرے اور اس سے ایک کمزوری ظاہر ہو جائے تو وہ اسی کمزوری کو لے کر ایسا ہنگامہ کریں گے گویا وہ اس کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page