غلط ذہن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴
ایک سفر
۱۲ مئی 1984 کی صبح کو مجھے رانچی (بہار) جانے کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر409 پکڑنی تھی ۔ صبح کو فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوا۔ دہلی ایئر پورٹ پہنچا توسورج کا روشن چہرہ افق سے اوپر آچکا تھا۔ ہوائی اڈہ کی روشنیاں اگر چہ ابھی بجھائی نہیں گئی تھیں مگر سورج کی روشنی کے آگے وہ اپنا وجود کھوتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ بجلی کے وہ قمقمے جو ہوائی اڈہ کو رات کے وقت " بنائے رہتے ہیں، جب سورج نکلا تو ایسا معلوم ہوا گویا ان میں کوئی روشنی ہی نہ تھی۔ سورج کے ظاہر ہوتے ہی تمام چمک دار بلب ماند پڑگئے ۔ فلڈ لائٹ کے کھمبے بے نور نظر آنے لگے۔ سورج نے اگر چہ لفظوں کی صورت میں کوئی اعلان نہیں کیا، مگر اس کا نکلنا ہی مصنوعی روشنیوں کے بے حقیقت ہونے کا اعلان بن گیا۔
اس دنیوی واقعہ میں تھوڑی دیر کے لئے مجھے آخرت کی تصویر نظر آنے لگی۔ میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں ہونے والا ہے جب کہ خدا اپنے جلال و کمال کے ساتھ انسانوں کے سامنے آجائے گا۔ انسانی تاریخ ایک لمبی تاریخ ہے جو دنیا سے لے کر آخرت تک چلی جارہی ہے۔ موجودہ دنیا گویا اس کا " رات" کا لمحہ ہے اور آخرت اس کا " دن " کا لمحہ۔ آج بہت سے انسان جھوٹی بڑائی کا مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔ بہت سے " بلب " بظاہر چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر انسانی تاریخ کے اگلے مرحلہ میں جب خدا اپنے روشن چہرہ کے ساتھ سامنے آئے گا تو تمام مصنوعی بلب اچانک اس طرح اپنی روشنی کھودیں گے جیسے کہ وہ جھوٹے بلب تھے۔ ان کی چمک محض وقتی تاریکی سے فائدہ اٹھانے کا نام تھی نہ کہ کوئی حقیقی چمک۔
ہوائی جہاز جب فضا میں اڑ رہا ہو تو اکثر مسافر آپ کو خوش باشی کی چیزوں میں مشغول نظر آئیں گے مگر کسی باشعور انسان کے لئے یہ اپنے عجز کا غیر معمولی تجربہ ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کے اندر معمولی خرابی آدمی کو ایک لمحہ میں ہلاکت تک پہنچا سکتی ہے۔ چنانچہ دوران پرواز مجھے اپنے عجز اور بے بسی کا غیر معمولی احساس ہوا بے ساختہ میرا دل بھر آیا۔ اس وقت مجھے ایک صاحب کی بات یاد آئی جنھوں نے پچھلے دن مجھ سے کہا تھا کہ آپ کے بارہ میں عام خیال یہ ہے کہ آپ کے اندر کبر ہے۔ یہ سوچ کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
" کیا کبر اور کیسی انا" میری زبان سے نکلا۔ ایک انسان کے پاس ہے کیا جو وہ انانیت دکھائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues