Al-Risala · October 1984 · page 35

غلط ذہن

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵

اور کبر میں مبتلا ہو۔ بخدا، اس آسمان کے نیچے اس سے زیادہ خلاف واقعہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا قصور اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے مصلحت کی زبان اختیار نہیں کی۔ جو چیز مجھے حق نظر آئی اس کو میں نے حق کہا اور جو چیز مجھے باطل دکھائی دی اس کو باطل کہا۔ خدایا تو گواہ رہ کہ میں اس قسم کے تمام الزامات سے بری ہوں۔ میں نے صرف تیری بڑائی کا اعلان کیا اور لوگوں نے اس کو میری بڑائی سمجھا۔ میں نے تیری ذات کمال کی حمد کی اور لوگوں نے اس کو میری خودستائی خیال کیا۔ میں نے صرف حق کی یکتائی پر زور دیا اور لوگوں نے اس کو میری انانیت قرار دیا۔

جہاز جب روانہ ہوا تو ائیر ہوسٹس نے اپنے اعلان میں حسب معمول یہ جملہ بھی کہا: Captain Chowdhry is in command میں نے سوچا کہ انسان بھی کتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ یہ دراصل خدا ہے جو جہاز کی کمانڈ میں ہے۔ مگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں کمانڈ میں ہوں۔ ہوائی جہاز کا اُڑنا اس سے بڑا واقعہ ہے کہ کوئی انسان اس کو ظہور میں لاسکے۔ وہ بے شمار کائناتی اسباب جو ایک "مصنوعی چڑیا" کے اُڑنے کو ممکن بناتے ہیں ان کو ذہن میں رکھے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سب کچھ خدا کر رہا ہے ، انسان تو بس مفت کا کریڈٹ پارہا ہے۔ جہاز جب مسافروں کو لے کر فضا میں اُڑتا ہے تو یہ قدرت کا حیرت ناک معجزہ ہوتا ہے۔ انسان نے المونیم اور پلاسٹک اور اسٹیل اور پٹرول جیسی کچھ چیزوں کو جوڑ کر ایک ڈھانچہ بنایا اور اس کو حرکت دی تو وہ مسافروں کو لے کر فضا میں اُڑنے لگا اور نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچا دیا۔

اس واقعہ میں بیشتر حصہ خدا کا ہے۔ انسان کا حصہ بہت تھوڑا ہے۔ تاہم انسان جب تک اپنی جانب کا تھوڑا حصہ نہایت صحت کے ساتھ ادا نہ کرے کوئی جہاز کبھی فضا میں نہیں اڑاسکتا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسلامی انقلاب کا بھی ہے۔ اسلامی انقلاب تمام تر خدا کی قدرت سے وجود میں آتا ہے۔ انسان کو اس میں بہت تھوڑا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہوائی جہاز کی دنیا میں انسان اچھی طرح جانتا ہے کہ اپنی جانب کا حصہ واقعی طور پر ادا کئے بغیر وہ جہاز کو فضا میں نہیں اُڑ سکتا۔ مگر اسلام کے علمبرداروں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی جانب کا تھوڑا حصہ بھی ادا نہیں کرتے اور جھوٹا جھنڈا لہرا کر اعلان کرتے ہیں کہ وہ اسلامی انقلاب کے ہیرو ہیں۔

۱۲ مارچ کو 10 بجے میں کراچی پہنچا۔ یہاں میرا قیام ہوٹل سمراٹ میں تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page