غلط ذہن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶
ملنے کے لئے آتے رہے۔ اور ان سے دینی و ملی موضوعات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک صاحب جو مختلف جماعتوں اور نظریات کا مطالعہ اور تجر بہ کرتے رہے ہیں، ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کی آخری دریافت کیا ہے۔ انھوں نے لیظھرہ علی الدین کلہ کی آیت پڑھی اور کہا کہ میرے نزدیک یہی وہ آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اس دنیا میں کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ اس آیت میں لیظهرہ کے فعل کا فاعل خدا ہے۔ پھر کیا آپ ایک خدائی واقعہ کو انسانی مشن قرار دینا چاہتے ہیں۔
رانچی کی آبادی تقریباً دس لاکھ ہے جس میں تقریباً دولاکھ مسلمان ہیں۔ مسلمانوں کی معاشی حالت عام طور پر اچھی ہے، تاہم تعلیم میں وہ بہت پیچھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کا کوئی اخبار نہیں۔ آپس کے اختلافات کی بھی، حسب معمول، ان کے اندر کمی نہیں۔
رانچی ضلع میں اور دوسرے ملحق اضلاع میں قدیم قبائل بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کو آدی باسی کہتے ہیں۔ یہ لوگ کوئی خاص مذہب نہیں رکھتے۔ ان کی زندگی تعصب اور تکلف سے خالی ہوتی ہے ۔ ان کے اندر کٹّرپن نہیں پایا جاتا۔ ان کے اندر اسلام کی تبلیغ کے زبر دست مواقع ہیں۔ مگر اس امکان کو ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ عیسائی مشنریاں ان میں بہت بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہیں۔ اور بہت سے آدی باسی خامانوں کو انھوں نے عیسائی بنایا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسلامی تبلیغ کے امکانات بدستور موجود ہیں۔ کیوں کہ عیسائی ہونے سے ان کی سماجی پوزیشن نہیں بدلی، وہ عیسائیوں کے اندرا چھوت کی مانند رہتے ہیں۔ اس بنا پر ان کی نئی نسل میں عیسائیت کے خلاف عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ انگریزی حکومت کے آخری دور میں عیسائی مشنریوں نے بہت بڑی تعداد میں یہاں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ یہاں اتنے بڑے بڑے عیسائی مشن قائم ہیں جن کا رقبہ کئی کئی میل کے دائرہ میں پھیلا ہوا ہے۔ مولانا قاضی شعیب احمد ایم اے (شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی)، نے اپنا ایک ذاتی واقعہ ان الفاظ میں بتایا ! میں رانچی کے قریب ایک گاؤں اٹکی میں تھا، اٹکی میں مشن کا بڑا علاقہ ہے۔ یہ عیسائی مشن تعلیم و تربیت کے علاوہ تبلیغ کا کام بھی کرتا ہے۔ وہاں کے پادری سے ہمارے تعلقات تھے، کئی مسلمان ان کے ملنے والے تھے، یہ بات غالباً ۱۹۶۱ کی ہے۔ میں نے ایک دن پادری صاحب سے سوال کیا کہ آپ طویل مدت سے اپنے مذہب کی تبلیغ کا کام کرتے آ رہے ہیں ، غیر مسلموں میں آپ کی تبلیغ کے اثرات تو مجھے معلوم ہیں یہ بتائیے کہ اب تک کتنے مسلمان ہیں جنھیں آپ نے اس علاقہ میں عیسائی بنایا ہے۔ میرے اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا؛
مولوی صاحب! میری یادداشت کے مطابق رجسٹرڈ لوگوں میں ایک بھی نام نہیں، پھر انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues