غلط ذہن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷
نے اٹکی کے ٹلی میاں جنہیں عرف عام میں بادشاہ نانا کہا جاتا تھا، کا واقعہ سنایا ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ پادری صاحب جان کی تبلیغ سے عیسائیت اختیار کرنے پر راضی ہو گئے مگر جب ان کے نام سے محمد کا لفظ نکال کر دوسرا نام رکھا گیا تو وہ برگشتہ عیسائیت سے الگ ہو گئے اور اس کے بعد پہلے سے زیادہ متشدد مسلمان بن گئے۔ رانچی کے زمانہ قیام میں مولانا ابو الکلام آزاد کو اندازہ ہوا کہ اس علاقہ کے مسلمان عیسائی مشنریوں کی زد میں ہیں اور غیر معمولی تعلیمی پس ماندگی کی وجہ سے ہر طرح کی بر بادی کا شکار ہیں۔ چنانچہ انھوں نے ۱۵ اگست ۱۹۱۷ء کو انجمن اسلامیہ رانچی کی بنیاد ڈالی۔ اس کام میں انھیں مقامی طور پر غیر معمولی تعاون ملا۔ مولوی ضیاء الحق جو جامع مسجد میں موذن تھے انھوں نے ایک زمین مدرسہ کی عمارت کے لئے وقف کر دی جس کی قیمت اس وقت آٹھ ہزار روپے سے زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں نے بھی اس کی امداد میں حصہ لیا۔ مثلاً رائے بہادر رتھا کر داس ، منشی جگت پال سہائے وکیل وغیرہ ۔ منشی ظہور علی رئیس ڈورنڈا نے خصوصی تعاون کیا۔ چنانچہ مذکورہ زمین پر مولانا آزاد نے خود اپنی نگرانی میں ایک بڑی عمارت تعمیر کرائی جو ابھی تک موجود ہے۔ مولا نا آزاد نے البلاغ پریس کی پوری رقم بھی اس عمارت کی تعمیر میں دے دی تھی۔
مذکورہ مدرسہ ایک عرصہ تک آزاد تعلیمی ادارہ کی حیثیت سے کام کرتا رہا ۔ 1927 میں مالی پریشانیوں کی وجہ سے بہار مدرسہ اکزامی نیشن بورڈ سے اس کا الحاق کر دیا گیا ۔ تاکہ حکومت کی مدد کے ذریعہ اسے باقی رکھا جاسکے۔ اب اس میں مولوی ، عالم ، فاضل کے امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ اس وقت مدرسہ کے اسٹاف میں پندرہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ مدرسہ کے نئے منتظمین کا منصوبہ ہے کہ مولانا آزاد کی اس واحد یاد گار کو مزید ترقی دے کر ایک بڑا ادارہ بنا دیا جائے:
مولانا ابو الکلام آزاد اپنے قیام رانچی کے زمانہ میں یہاں کی جامع مسجد میں پابندی سے تقریر کرتے تھے اور قرآن کا درس دیتے تھے۔ اپنی تفسیر ترجمان القرآن کا بھی بڑا حصہ انھوں نے رانچی ہی میں تحریر کیا۔
مولانا ابو الکلام آزاد تقریباً چار سال (۱۹۱۶-۱۹۱۹) رانچی میں نظر بند کی حیثیت سے رہے نظر بندی کی اس مختصر سی مدت میں انھوں نے یہاں کے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے بہت سے دیر پا کام کئے ۔ عربی مدرسہ ، اسکول ، اسپتال ، قبرستان ، رسوم کی اصلاح وغیرہ۔ یہ سب خالص تعمیری کام تھے۔ جن کے اثرات اب تک رانچی میں موجود ہیں ۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے بڑے بڑے قائدین
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues