Al-Risala · November 1984 · page 3

کام کا طریقہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳

کام کا طریقہ

ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد شبلی نیشنل کالج (اعظم گڑھ) میں انگریزی کے استاد تھے۔ ۱۹۵۳ سے ۱۹۶۴ تک یہاں رہے۔ وہ کمیونسٹ تھے، ان کا معمول تھا کہ دن کو کالج میں انگریزی کی کلاسیں لیتے اور شام کے وقت شہر کے چوراہے پر جاکر پارٹی کا اخبار بیچتے۔ وہ اخباروں کا بنڈل اپنے ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوجاتے اور لوگوں سے کہتے ”اس پارٹی کی سچائی میں کون شک کرسکتا ہے جس میں ایک پروفیسر سڑک پر کھڑا ہوکر اخبار بیچے“۔ دوسری مثال شیخ محمد سلیمان الفائد کی ہے۔ وہ افریقہ کے ایک ملک میں دعوتی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے نوجوان ہیں جن کے اندر تبلیغ کا جذبہ ہے۔ مگر وہ غریب ہیں۔ انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں سے کئی درجن نوجوان منتخب کئے، ان کے لئے ایک مختصر شاہرہ مقرر کردیا اور ہر ایک کو ایک بائیسکل دے دی۔ یہ نوجوان بائیسکلوں پر گھوم گھوم کر تبلیغ کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس ملک میں پانچ سال (۱۹۷۸ - ۱۹۸۴) کی مدت میں تقریبا ۲۰ ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا۔

قارئین الرسالہ سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کے تعمیری اور دعوتی مشن کو پھیلانے کے لئے اسی قسم کا تعاون فرمائیں۔ پہلی اور اعلٰی صورت تو یہ ہے کہ آپ خود اپنی ذات کو اس عظیم کام میں لگائیں۔ آپ الرسالہ کی ایجنسی لیں۔ آپ اس کی مطبوعات منگاکر لوگوں تک پہنچائیں۔ آپ ہر اجتماعی موقع پر بک اسٹال لگا کر لوگوں کو اس مشن سے متعارف کرائیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس اپنی ذات کو اس مشن میں لگانے کے لئے وقت اور موقع نہ ہو تو دوسری صورت یہ ہے کہ بے روزگار، یاکم آمدنی والے لوگوں میں سے کسی کو تیار کریں۔ اس کو کچھ مشاہرہ دیں اور ایک بائیسکل دے کر اس سے کہیں کہ تمھار اکام یہ ہے کہ تم کتابوں کو پھیلاؤ اور الرسالہ کے خریدار بناؤ۔ وہ بستی بستی گھوم کر بس یہی کام کرتا رہے۔ یہ کام ایک فرد بھی کرسکتا ہے اور کئی لوگ مل کر بھی۔

اگر آپ الرسالہ کے مشن کو حق سمجھتے ہوں، اس کے باوجود اس کو پھیلانے میں آپ نہ براہ راست شرکت کریں اور نہ بالواسطہ، تو آپ کو سوچنا چاہئے کہ حقیقت کی نظر میں آپ اپنا نام کس خانہ میں لکھوا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page