رفتار روک
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴
رفتار روک
گاڑی تیزی سے سڑک پر چلی جارہی تھی۔ اچانک ڈرائیور نے رفتار بہت کم کردی۔ اس کے بعد ایک ہلکا سا جھٹکا ہوا اور پھر گاڑی اپنی رفتا رسے چلنے لگی۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو سڑک کے کنارے ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا رفتار روک (Speed Breaker) سڑک کے حادثے زیادہ تر گاڑی تیز دوڑانے سے ہوتے ہیں چنانچہ سڑکوں پر جگہ جگہ اونچا سا مینڈ کی مانند بنا دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو رفتار گھٹانے پر مجبور کیا جاسکے۔ اسی بنا پر اس کو اسپیڈ بریکر (رفتار توڑنے والا) کہا جاتا ہے۔
یہ سڑک کے سفر کو محفوظ بنانے کا طریقہ ہے۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ زندگی کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے بھی اسپیڈ بریکر ہوں۔ آدمی اپنے کو آزاد سمجھ کر بے لگام ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کو صاحب اختیار پا کر سرکشی کرنے لگتا ہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں رہوں۔ ایسی حالت میں اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو آدمی بالکل بے قید ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ آدمی کی زندگی میں اسپیڈ بریکر رکھے جائیں۔ زندگی کے سفر میں اس پر جگہ جگہ روک لگائی جائے۔
اسلام کے احکام ایک اعتبار سے گویا زندگی کے لئے اسپیڈ بریکر ہیں۔ وہ آدمی کو بار بار روکتے ہیں تاکہ وہ اپنے معاملات میں حد سے باہر نہ جانے پائے۔ آدمی دنیا کے کام میں مشغول ہے کہ اچانک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر نماز کے لئے چلو۔ آدمی اپنے مال کو صرف اپنا سمجھ رہا ہوتا ہے کہ حکم آتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ دوسروں کے لئے نکالو۔ آدمی کھا رہا ہے اور پی رہا ہے کہ رمضان آجاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کھانا پینا چھوڑ دو۔ آدمی اپنے عزیز واقارب کے درمیان ہوتا ہے کہ حکم آتا ہے کہ سب کو چھوڑ کر حج کے لئے چلے جاؤ۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب گویا زندگی کے لئے ایک قسم کے اسپیڈ بریکر ہیں۔ یہ انسان کی رفتار کو بار بار کم کرتے ہیں تاکہ وہ حد کے اندر رہے، تاکہ وہ انصاف اور اعتدال کے ساتھ زندگی گزارے۔ تاکہ وہ ہر مرحلہ میں اعتدال کی زندگی پر قائم رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues