کیسا عجیب اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۵
کیسا عجیب اسلام
ایران میں " اسلامی انقلاب" کے بعد جو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کی قومی اسمبلی اور دوسرے بلبک مقامات پر جو سیڑھیاں ہیں ان پر مختلف قسم کے جھنڈوں کی تصویریں بنائی گئی ہیں۔ یہ جھنڈے امریکہ، روس اور اسرائیل کے ہیں۔ ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ جب کوئی آدمی ان عمارتوں میں داخل ہو تو وہ ان پر پاؤں رکھے بغیر داخل نہ ہو سکے۔ (کوثر ، بنگلور ، رمضان ۱۴۰۴ ھ)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سا دین ہے جس کو موجودہ زمانہ کے علمبردارانِ اسلام نے دریافت کیا ہے۔ وہ نفرت کا دین ہے۔ ان کے نزدیک اسلام کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مفروضہ دشمنانِ اسلام کو ذلیل کیا جائے۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اور آپ کے اصحاب کا اسلام یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کی خیر خواہی میں ان کے لئے دعائیں کیں۔ وہ اس لئے تڑپے کہ لوگ ہدایت کو قبول کر کے جہنم کی آگ سے بچ سکیں۔ انھوں نے اپنے دشمنوں سے بھی محبت کا سلوک کیا تاکہ ان کا دل اسلام کے لئے نرم ہو۔ انھوں نے ظالموں کو بھی بے عزت کرنا پسند نہیں کیا تا کہ ان کے اندر حمیتہ جاہلیت کی آگ نہ بھڑ کے۔ انھوں نے بگڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ تالیف قلب کا معاملہ کیا تا کہ ان کی فطرت کو جگایا جاسکے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین نے ایک ایسا اسلام دریافت کر رکھا ہے جو انھیں اس کے بالکل برعکس سبق دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں اسلام کے نام پر دوسروں سے نفرت کرنے والے بہت ہیں مگر اسلام کے نام پر دوسروں سے محبت کرنے والا کوئی نہیں۔ اسلام کے لئے جھنڈا اٹھانے والے بے شمار ہیں مگر کوئی اللہ کا بندہ ایسا نہیں جو اسلام کے لئے اپنے جھنڈے کو نیچا کرلے۔ اسلام کے لئے دوسروں سے لڑنے والے ہر طرف دکھائی دیتے ہیں مگر اسلام کے لئے صلح کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اسلام کے لئے بولنے والوں سے خدا کی زمین بھرگئی ہے مگر وہ انسان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا جو اسلام کی خاطر چپ ہو گیا ہو۔
اسلام کے نام پر لوگوں کو پیروں سے روندنے والے بہت ہیں مگر خدا کا وہ بندہ کہیں دکھائی نہیں دیتا جو اسلام کی خاطر لوگوں کو اپنے سینہ سے لگالے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues