حق کو پانا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۶
حق کو پانا
انسان کا ذہن حق کا آئینہ ہے۔ آئینہ کے سامنے کوئی چیز لائی جائے تو وہ اس کی ہو بہو صورت اپنی سطح پر اتار لیتا ہے۔ وہ کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔ ٹھیک یہی حال آدمی کے ذہن کا ہے ۔ اس کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ فوراً اس کو پہچان لیتا ہے۔ وہ پوری طرح اسے پالیتا ہے۔ وہ نہ دیکھنے میں غلطی کرتا اور نہ پہچاننے میں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ آیات بینات (کھلے دلائل) کے ذریعہ حق سامنے آتا ہے، اس کے باوجود بے شمار لوگ اس کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ نفسیاتی اٹکاؤ ہے۔ ایسے افراد کا گہرا تجزیہ کیجئے تو ان کے انکار کی وجہ کوئی حقیقی دلیل نہیں ہوگی۔ بلکہ کوئی نہ کوئی دوسری غیر متعلق چیز ہوگی جس کے ساتھ آدمی اٹکا ہوا ہوگا۔
سچائی کو پانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ حق واضح ہونے کے بعد آدمی کسی بھی اور چیز کو اپنے لئے رکاوٹ نہ بننے دے۔ مگر آدمی اکثر حالات میں ایسا نہیں کر پاتا۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کو اپنے لئے رکاوٹ بنا لیتا ہے۔
کوئی کسی شخصیت پر اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی کسی مفاد پر، کوئی کسی اور چیز پر۔ یہی وہ کمزوری ہے جس نے ہر دور میں بے شمار لوگوں کو سچائی اختیار کرنے سے محروم کر دیا۔ وہ پانے کے باوجود اس کو پانے میں ناکام رہے۔
ابو جہل کے لئے اس کا دنیاوی مفاد قبول حق میں رکاوٹ بن گیا طائف کے لوگوں نے حق کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ اس کا اعلان ایک ایسے شخص کی زبان سے ہورہا تھا جو بظاہر انہیں وقت کی بڑی بڑی شخصیتوں سے کم تر دکھائی دیتا تھا۔ یہود نے آپ کا انکار اس لئے کیا کہ آپ کو پیغمبر ماننے سے ان کا احساس برتری ٹوٹتا تھا۔ شہنشاہ ہر قل نے اس لئے اس کا اقرار نہیں کیا کہ اس نے محسوس کیا کہ اگر میں ایسا کروں تو میں اپنی قوم سے کٹ جاؤں گا۔ ہر ایک دلیل سے مفتوح ہو چکا تھا۔ مگر ہر ایک کسی نہ کسی چیز میں اٹک کر اس کو قبول کرنے سے باز رہا۔
اس دنیا میں حق صرف اس شخص کو ملتا ہے جو کسی اٹکنے والی چیز پر نہ اٹکے۔ سچائی کا دلیل سے واضح ہو جانا ہی اس کے لئے کافی ہو کہ وہ اس کو ہمہ تن قبول کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues