محبت کا نذرانہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۷
محبت کا نذرانہ
آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہارا چاہتا ہے۔ ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔ اور جو اس کے لئے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور عقیدت کے جذبات اس کے لئے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے وہ کسی سے محبت شدید کرے اور جس سے کوئی شخص محبت شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔
موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہئے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جن کو آدمی بڑا سمجھ لیتا ہے۔ اور پھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ لوگ ان کے اس طرح گرویدہ ہو جاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیں صرف خدا کا ہونا چاہئے۔ آدمی کی فطرت کا تقاضا حقیقتہ اس لئے تھا کہ اس کو خدا سے پر کیا جائے وہاں وہ کسی غیر خدا کو بٹھا لیتا ہے (البقرہ ۱۶۵)
مذہبی احساس جب اپنے اعلیٰ ترین اسٹیج کو پہنچتا ہے تو وہ محبت میں ڈھل جاتا ہے۔ خدا ہر قسم کی خوبیوں کا اعلیٰ ترین مجموعہ ہے۔ انسان جتنی بھی چیزوں کا مالک ہے وہ سب کی سب خدا کا عطیہ ہیں ۔ کائنات کا گہرا مشاہدہ ایک ایسے خالق کا تعارف کراتا ہے جو حیرت ناک حد تک حسن و کمال کی خصوصیات رکھنے والا ہے۔
یہ ہے خدا اور کوئی آدمی جب ایسے خدا کو پا لیتا ہے تو وہ بالکل فطری طور پر اس کی عقیدت و محبت میں سرشار ہو جاتا ہے۔
انسان کے پاس کسی کو دینے کے لئے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی با کمال ہستی کو پائے اور اس کی خدمت میں محبت سے کم تر درجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔ محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اور نہ کسی انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues