Al-Risala · November 1984 · page 8

دل کا سکون

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۸

دل کا سکون

آج کی دنیا ترقی یافتہ دنیا کہی جاتی ہے۔ مگر یہ تمام ترقیاں صرف ’’چیزوں‘‘ کی ہوئی ہیں جہاں تک ’’انسان‘‘ کا تعلق ہے، وہ بدستور غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑا ہوا ہے۔ انسان پیچھے ہے اور چیزیں آگے ۔

سب سے بڑی چیز جو انسان چاہتا ہے وہ سکون ہے۔ مگر آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔ جدید مادی ترقیوں نے صرف یہ کیا ہے کہ انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔ یہ ترقیاں انسان کو سکون دینے میں سراسر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

موجودہ دنیا میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ یہاں سامانِ سکون ہے مگر سکون نہیں۔ یہاں تہمتوں کا شور ہے مگر دل کا چین نہیں۔ یہاں خوشی کے اسباب کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقی خوشی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ہم روح جیسی برتر چیز کو مادہ جیسی کمتر چیز کے ذریعہ خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور ایسا ہونا کبھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ جولین آف ناروچ (Julian of Norwich) نے صحیح کہا ہے کہ ہماری روح کبھی ان چیزوں میں سکون نہیں پاسکتی جو خود اس سے نیچی ہوں :

Our soul may never rest in things that are beneath itself انسان اشرف المخلوقات ہے۔ وہ ہماری معلوم دنیا کی سب سے برتر مخلوق ہے۔ اس کائنات میں انسان کے اوپر صرف ایک ہی ذات ہے اور وہ خود خالق ہے۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان کے لئے سکون اور راحت کا واحد ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پالے۔ اس سے کمتر کوئی چیز اس کے لئے سکون اور راحت کا سبب نہیں بن سکتی۔

یہی حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے :

الذین آمنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرعد (۲۸) یاد سے اطمینان ملتا ہے۔ جان لو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page