کمپیوٹر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۹
کمپیوٹر
امریکہ اور جاپان آجکل کمپیوٹر کی پانچویں نسل تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپیوٹر دیکھے گا، بولے گا اور سوچے گا۔ امریکہ کے دفاعی محکمہ پنٹاگان نے فوری طور پر ۶۰۰ ملین ڈالر کا عطیہ ان کمپنیوں کو دیا ہے جو کمپیوٹر ٹیکنیک پر تحقیق کر رہی ہیں۔ جاپان کی حکومت نے بھی اسی قسم کی امداد جاری کی ہے۔
اس وقت جدید ترین کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں ۵۰ ملین آپریشن کو شمار کرتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ۱۹۸۶ تک ایسے کمپیوٹر بن جائیں گے جو ایک سیکنڈ میں ایک بلین آپریشن کو شمار کر سکیں گے۔ تا ہم پنٹاگان اس سے مطمئن نہیں ہے۔ اگلے دس سال کے اندر وہ ایسا سپر کمپیوٹر تیار کرنا چاہتا ہے جو ایک سیکنڈ میں ایک ہزار بلین آپریشن کا شمار کر سکے۔
اس وقت انسانی شکل کے ایسے کمپیوٹر (روبوٹ) بنائے جا چکے ہیں جو آپریٹر کے کہنے پر اپنا بازو نیچے یا اوپر کرتے ہیں اور دائیں بائیں گھومتے ہیں۔ بشرطیکہ آپریٹر نے وہی “ زبان “ استعمال کی ہو جو کمپیوٹر کو بتائی گئی ہے۔ اب ماہرین ایسے کمپیوٹر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جن کے اندر مشینی مشاہدہ کی صلاحیت ہو۔ یہ کمپیوٹر نقشوں کا مطالعہ کر کے یہ جان سکیں گے کہ کون سا جہاز دشمن قوم کا جہاز ہے اور کون سا دوست کا جہاز۔ جو جہاز دشمن کا جہاز ہو گا اس کو وہ مار گرائیں گے۔
کمپیوٹر سائنس کی اس ترقی نے سائنس کی دنیا میں ایک نیا لفظ پیدا کیا ہے جس کو مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے۔ اس لفظ سے عام لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسانی ذہانت (فطری ذہانت) کو مصنوعی طور پر بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سراسر فریب ہے۔ کمپیوٹر کی مصنوعی ذہانت ٹیپ ریکارڈر کے مصنوعی تکلم سے کچھ بھی مختلف نہیں۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دونوں “ ’’تکرار‘‘ “ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک سادہ تکرار ہے۔ اور دوسری پیچیدہ تکرار کمپیوٹر سائنس کے ایک عالم نے لکھا ہے : It is impossible to develop an artificial intelligence as it is understood literally. It is impossible in principle. The human brain is a very sophisticated system composed of tens of billions of inter-connected cells. Each cell is extremely complex in itself. A rather plausible hypothesis says that an individual cell processes the signals penetrat- ing it like a computor. Therefore, even the most sophisticated machine we may imagine cannot even be compared to the brain. The Times of India, November 9, 1983
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues