Al-Risala · November 1984 · page 10

تین چیزیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰

تین چیزیں

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ثلاث منجيات وثلاث مهلكات ؛ فالمنجيات ، فتقوى الله في السر والعلانية والقول بالحق في الرضا والغضب والقصد في الفقر والغنى وأما المهلكات : فموى متبع ، وشح مطاع وإعجاب المرء بنفسه وهي اشدهن ۔ (رواہ البيهقي)

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ۔ نجات دینے والی چیزیں یہ ہیں۔ چھپے اور کھلے ہر حال میں اللہ سے ڈرنا۔ خوشی اور ناراضگی دونوں حالت میں حق بات کہنا۔ محتاجی اور دولت مندی دونوں میں اعتدال پر قائم رہنا۔ اور ہلاک کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنا۔ حرص کی پیروی۔ آدمی کا اپنے آپ کو اونچا سمجھنا اور یہ آخری چیز سب سے زیادہ سخت ہے۔

چھ چیزیں جو اس حدیث میں بتائی گئی ہیں یہ دراصل ایمان کی پہچان ہیں۔ جس آدمی کو خدا کی گہری معرفت حاصل ہو جائے اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اس کو ہر وقت یہ محسوس ہو گا کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔

ایسے آدمی کے لئے کھلی اور چھپی دونوں حالتیں برابر ہو جاتی ہیں۔ وہ خوش ہو جب بھی ایک حد کے اندر رہتا ہے اور نا خوش ہو تب بھی اس کی زبان پر خوف خدا کی لگام لگی رہتی ہے۔ محتاجی اور دولت مندی دونوں اس کے لئے یکساں ہو جاتی ہیں۔ کیوں کہ خدا کی نسبت سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

ایسے آدمی کے اوپر یہ یقین چھا جاتا ہے کہ آخر کار اسے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ یہ احساس اس سے یہ آزادی چھین لیتا ہے کہ وہ خواہشات کے پیچھے دوڑے ۔ وہ حرص کی بندگی میں مبتلا ہو۔ اپنے آپ کو اونچا سمجھنا اس کے لئے ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کوئی چیونٹی پہاڑ کے نیچے رینگ رہی ہو اور اپنی بڑائی کے فخر میں مبتلا ہو۔ خدا کو پا نا دراصل اس حقیقت کو پانا ہے کہ خدا سب سے بڑا ہے۔ جو شخص خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے پالے اس کے اندر اپنی بڑائی کا احساس کہاں سے پیدا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page