نصیحت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱
نصیحت
امام عبدالرحمن اوزاعی (۱۵۷ - ۸۸ ھ) بہت بڑے عالم تھے۔ مگر وہ اکثر چپ رہتے تھے۔ ان کا قول ہے کہ مومن کم بولتا ہے اور زیادہ عمل کرتا ہے اور منافق زیادہ بولتا ہے اور کم عمل کرتا ہے (ان المومن يقول قليلا ويعمل كثيرا و ان المنافق يقول كثيرا ويعمل قليلا) وہ ظواہر دین کے مقابلہ میں حقیقت دین پر زور دیتے تھے۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ عدل کی ایک ساعت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے (ساعة عدل خير من عبادة الف شهر)
امام اوزاعی کے ایک شاگرد ابو الفضل بن الولید بن مزید نے اپنے استاد کے بارہ میں اپنا تجربہ ان الفاظ میں بتایا ہے :
من نظر فى كتب الاوزاعی يظن انه كان جو شخص امام اوزاعی کی کتابوں کو دیکھے گا وہ صاحب کلام ۔ وما رأيت قط رجلا گمان کرے گا کہ وہ بڑے بولنے والے تھے۔ اطول منه سكوتاً والشخ طه الولى، عبد الرحمن حالانکہ کہ ان سے زیادہ دیر تک چپ رہنے والا الاوزاعی، بیروت ۱۹۶۸، صفحہ ۶۷) میں نے کوئی دوسرا آدمی نہیں دیکھا۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام اوزاعی کو بلایا اور ان سے فرمائش کی کہ وہ خلیفہ کو نصیحت کریں۔ اس موقع پر امام اوزاعی نے نصیحت کے جو کلمات کہے ان میں سے ایک فقرہ یہ تھا :
يا امير المومنين، تدرى ما جاء فى تأويل اے امیر المومنین کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس آیت کے هذه الآية عن جدك (ما لهذ الكتاب لايغادر بارے میں آپ کے دادا عبد اللہ ابن عباس نے کہا کہا صغيرة ولا كبيرة الا احصاها)، قال الصغيرة ہے کیسی عجیب ہے یہ کتاب جس نے چھوٹی بڑی ہر چیز التبسم والكبيرة الضحك ۔ فكيف بما عملته لکھی ہے، انھوں نے کہا ہے کہ صغیرہ سے مراد مسکرانا ہے الايدى وحصدته الالسن ( صفحه ۷۷) اور کبیرہ سے مراد ہنسنا ہے۔ پھر ان اعمال کا کیا ذکر جو ہاتھ کریں اور جو زبان سے صادر ہوں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس کا مطلب یہ تھا کہ ہنسنا اور مسکرانا جن کو تم بالکل معمولی چیز سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جا رہا ہے پھر دوسرے زیادہ بڑے اعمال کا کیا ذکر۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues