Al-Risala · November 1984 · page 12

کب بولیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲

کب بولیں

حضرت ابو موسیٰ الاشعری ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عدن کا والی مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو بصرہ کا والی مقرر کیا۔

حضرت ابو موسیٰ کے اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ قاضی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرے یہاں تک کہ حق اس پر اس طرح واضح ہو جائے جس طرح اس پر رات کے مقابلہ میں دن واضح ہوتا ہے (لا ینبغی للقاضی ان يقضى حتى يتبين له الحق كما يتبين له الليل من النهار حضرت عمر فاروق نے یہ قول سنا تو کہا کہ ابو موسیٰ الاشعری نے سچ کہا، قاضی کا طریقہ یہی ہونا چاہئے (صدق ابوموسی الاشعرى)

حضرت ابو موسیٰ الاشعری کے اس قول کا تعلق صرف قاضی یا حاکم سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جس طرح قاضی کے سامنے دوسروں کے معاملات آتے ہیں اور وہ ان کو سن کر ان کے بارہ میں کوئی ایک رائے ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کے سامنے دوسروں کے معاملات آتے ہیں اور وہ ان کے بارہ میں اپنی کوئی رائے ظاہر کرتا ہے۔ اس اظہار رائے کی حیثیت انفرادی سطح پر وہی ہے جو عدالتی سطح پر قاضی کے فیصلے کی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ قانونی طور پر نافذ ہوتا ہے اور عام انسان کا قول دوسروں کے اوپر عملاً نافذ نہیں ہوتا۔

تاہم ہر آدمی کو اپنے قول کی جواب دہی آخر کار خدا کے سامنے کرنی ہے۔ اور اس اعتبار سے دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہے۔ دونوں کی یکساں پکڑ ہونے والی ہے۔ ہر آدمی جو خدا کے سامنے حاضری کا عقیدہ رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ کسی معاملہ میں صرف اس وقت بولے جب کہ اس پر اس معاملہ کی حقیقت اس طرح کھل جائے جس طرح رات کے بعد دن اس کے اوپر واضح ہو جاتا ہے۔ جس معاملہ کی حقیقت اس طرح نمایاں طور پر واضح نہ ہو اس معاملہ میں اس کے لئے صرف ایک ہی راستہ ہے۔ یہ کہ وہ اپنی زبان بند رکھے۔

خدا سے ڈرنے والا آدمی صرف واضح معاملہ میں بولتا ہے۔ اور جو معاملہ واضح نہ ہو اس کو وہ اپنے خدا کے حوالے کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page