Al-Risala · November 1984 · page 20

خود اعتمادی کا راز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰

خود اعتمادی کا راز

حبیب بھائی (حیدر آباد) نے ۲ فروری ۱۹۸۴ء کو اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔ وہ چند سال پہلے یورپ کے ایک سفر پر گئے تھے۔ اس سلسلے میں وہ لوزان (سوئٹزر لینڈ) بھی گئے وہاں انھوں نے ایک دکان سے ایک کیمرہ خریدا۔ یہ کیمرہ انھیں ہندستانی قیمت کے لحاظ سے پانچ ہزار روپے میں ملا۔ انھوں نے کیمرہ لے لیا۔ مگر بعد کو انھیں احساس ہوا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔ ان کو یورپ سے واپسی میں عمرہ کے لئے سعودی عرب بھی جانا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ سعودی عرب میں یہ کیمرہ تقریباً تین ہزار روپے میں مل جائے گا۔ پھر یہاں میں اس کو مہنگی قیمت میں کیوں خریدوں۔

اب انھوں نے چاہا کہ اس کیمرہ کو واپس کردیں۔ مگر فورا خیال آیا کہ جب میں دکان پر جاکر واپسی کے لئے دکاندار سے کہوں گا تو وہ پوچھے گا کہ کیوں واپس کر رہے ہو۔ واپسی کو برحق ثابت کرنے کے لئے مجھے کیمرے میں کوئی نقص بتانا ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے ادھر ادھر دیکھ کر یہ چاہا کہ کیمرہ میں کوئی خرابی دریافت کریں تاکہ اس کا حوالہ دے کر اپنی واپسی کو درست ثابت کر سکیں۔ مگر تلاش کے با وجود کیمرہ میں کوئی نقص نہیں ملا۔

تاہم ان کی طبیعت اندر سے زور کر رہی تھی۔ چنانچہ وہ کیمرہ لے کر دوبارہ دکان پر گئے۔ وہاں کا ونٹر پر ایک خاتون کھڑی ہوئی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیمرہ میں نے آپ کے یہاں سے خریدا تھا۔ اب میں اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جب انھوں نے یہ بات کہی تو ان کی توقع کے خلاف خاتون نے واپسی کی وجہ دریافت نہیں کی۔ اس نے صرف یہ پوچھا کہ آپ اپنی رقم ڈالر میں چاہتے ہیں یا ملکی سکہ میں۔ انھوں نے کہا کہ ڈالر میں۔ خاتون نے اسی وقت واپسی کا پرچہ بنا دیا۔ وہ اس کو لے کر دوسرے کاؤنٹر پر پہنچے۔ وہاں فوراً ان کو مذکورہ ڈالر واپس کر دیئے گئے۔ جیسے کہ رقم اور مال میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے دکان دار نے کیوں ایسا کیا کہ کچھ کہے بغیر فوراً کیمرہ واپس لے لیا، اور پوری قیمت لوٹا دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو اپنے مال کی کوالٹی پر پورا بھروسہ تھا۔ اس کو یقین تھا کہ میرا مال چونکہ معیاری ہے اس لئے ضرور کوئی نہ کوئی اسے خریدے گا۔ خواہ ایک شخص اسے خریدے یا دوسرا شخص۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page