Al-Risala · November 1984 · page 21

فکری انقلاب

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

فکری انقلاب

المعهد العلی للکفر الاسلامی کا بین اقوامی سیمنار (کوآلمپور، جولائی ۱۹۸۸ء) مسلم نوجوانوں میں ایک نئے فکری دور کی علامت ہے۔ معہد کے فکر کا خلاصہ اس کے تعارفی پمفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کی ناکامی کا سبب خود اس کے اندر ہے نہ کہ اس کے باہر۔ وہ سبب ہے ـــ ضروری بنیاد تیار کئے بغیر عملی اقدامات کرنا۔ معہد کے نزدیک پہلی ضروری چیز وہ ہے جس کو اسلامیۃ المعرفة (Islamization of knowledge) کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ امت کے موجودہ بحران کو حل کرنے کے سلسلہ میں پہلا قدم یہ ہے کہ علم کو اسلامی بنایا جائے: The first step toward a genuine solution of the pre- sent crisis of the Ummah is the Islamization of knowledge. تقریباً ۱۲ سال پہلے میں نے ایک مقالہ لکھا تھا۔ یہ مقالہ عربی زبان میں اگست ۱۹۷۳ء میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا :

لابد من الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية

اس مقالہ میں تفصیل سے یہ دکھایا گیا تھا کہ سیاسی یا قانونی انقلاب سے پہلے فکری انقلاب ضروری ہے۔ امت کے عملی مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جب کہ ہم فکری انقلاب کے ذریعہ اس کے موافق فضا بنا چکے ہوں ۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فریضہ قرار پاتی ہے۔ قرآن میں دو مقام پر (البقره ۱۹۳، الانفال ۳۹) یہ حکم دیا گیا ہے که وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔ جیسا کہ حضرت عبد الله بن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے، اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جامع ہے. انھوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو ا ہل شرک اسے ستاتے ۔ کسی کو وہ قتل کر دیتے، کسی کو زنجیروں میں باندھتے اور کسی کو عذاب دیتے ۔ یہاں تک که اسلام کی کثرت ہوگئی اور یہ صورت حال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستا یا جائے۔ (تفسیر ابن کثیر)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page