Al-Risala · November 1984 · page 22

لابد من الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں فتنے سے وہی چیز مراد ہے جس کو ایذارسانی(Persecution)کہا (Persecution) کہا جاتا ہے۔ یعنی مختلف عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ قدیم زمانہ میں شرک کو غلبہ حاصل تھا۔ چنانچہ اہل شرک ہزاروں سال تک یہ کرتے رہے کہ وہ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کو ستاتے (وما نقموا منهم الا ان يؤمنوا بالله العزيز الحميد)۔

پیغمبر آخر الزماں کاشن یہ تھا جس کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل فرمایا کہ آپ اس مخالفانہ صورت حال کو ختم کر دیں۔ وہ شرک کے عمومی غلبہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیں۔ تاکہ خدا کے بندوں کے لئے توحید کا عقیدہ اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی ہے وہ رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارہ میں فرمایا: انا احمد وانا الماحي الذي يمحوالله بي الكفر (الحديث، ۴، صفحه ۳۳۳) موجودہ زمانہ میں شرک کی جارحانہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ مگر غور کیجئے تو اصل صورت حال دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آئی ہے۔ آج دوبارہ انسان کے لئے دین توحید اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ مگر آج دین سے روکنے والا عنصر اپنا کام فکری طاقت کے زور پر کر رہا ہے نہ کہ شمشیری طاقت کے زور پر۔

آج کا فتنہ جدید ملحدانہ افکار کا فتنہ ہے۔ جو کام قدیم زمانہ میں شرک کرتا تھا وہ آج ملحدانہ افکار انجام دے رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسے افکار غالب آگئے ہیں جو خدا کے وجود کو مشتبہ قرار دیتے ہیں۔ جو وحی و الہام کو فرضی بتاتے ہیں، جو آخرت کو بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ افکار دین توحید کو اختیار کرنے میں مانع بنے ہوئے ہیں۔ آج کا فتنہ یہ ہے کہ خود سوچنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا گیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کا انسان یا تو منکر بن گیا ہے یا وہ کم از کم دستنگ ہے۔ یہ ایک قسم کا فکری حملہ (Intellectual invasion) ہے۔ ہم کو اس حملہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اب ہمیں دوبارہ قاتلوهم حتی لا تكون فتنة پر عمل کرنا ہے۔ مگر یہ عمل شمشیر کے ذریعہ نہیں ہوگا، بلکہ افکار کی طاقت کے ذریعہ ہوگا۔ ملحدانہ افکار کا جواب ہمیں توحیدی افکار سے دینا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اعلیٰ علمی استدلال سے جدید ملحدانہ افکار کو بے بنیاد ثابت کر دیا جائے۔ ہماری یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ نظریات اپنا غلبہ کھونہ دیں اور توحید کا فکر وقت کا غالب فکر نہ بن جائے۔

غلبہ اور مغلوبیت کا یہ واقعہ اولاً فکری میدان میں ہوگا۔ یہ اسی قسم کا ایک واقعہ ہو گا جیسا کہ ہم موجودہ زمانہ میں مغربی افکار کی مثال میں دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page