لابد من الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴
اور اناسان اس حیاتیاتی ترتیب کے سب سے آخر میں ظاہر ا۔
نظریہ ارتقاء کی عمارت جن مشاہدات پر قائم کی گئی ہے ان میں سب سے اہم مشاہدہ یہی ہے۔ نظریہ ارتقاء کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ زندگی کی مختلف قسمیں ارتقائی عمل کے ذریعہ ظہور میں آئیں، یعنی زندگی کا ہر اگلا فارم اپنے پچھلے فارم سے نکلتا رہا۔ یہ ترقی ہر اگلی نسل میں جمع ہوتی رہی یہاں تک کہ اس کے آخری مجموعہ نے وہ اعلیٰ صورت اختیار کرلی جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ مگر یہ سراسر غلط تعبیر کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی حقیقی استدلال کا نتیجہ۔ خالص علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جو بات مشاہدہ میں آئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ زمین پر انواع حیات کی موجودگی میں ایک زمانی ترتیب پائی جاتی ہے نہ یہ کہ انواع حیات ایک دوسرے کے بطن سے بطریق تناسل پیدا ہوتی چلی گئی ہیں۔
اصل مشاہدہ صرف تخلیق کی زمانی ترتیب کو بتا رہا تھا مگر غلط تعبیر کے ذریعہ اس کو زندگی کے ارتقائی ظہور کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ ارتقاء کے مشاہدات خالق (Creator) کی تردید نہیں کرتے، جیسا کہ خود چارلس ڈارون نے اپنی کتاب " اصل الانواع" میں تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ مشاہدات درست ہوں، تو وہ خالق کے تخلیقی عمل کی ترتیب کو بتاتے ہیں۔
یہ مختصر جائزہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ موجودہ زمانہ میں ااسلام کے احیاء کی راہ کا پہلا بنیادی کام سلام کا فکری غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ فکری غلبہ بظاہر دشوار ہو ہونے کے با وجود انتہائی آسان ہے۔ اسلام کی پھیلی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی مثالیں اس کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کے لوگ اسلام کے نہایت سخت دشمن کے روپ میں ظاہر ہوئے مگر صرف ربع صدی کی دعوتی جدوجہد نے بتایا کہ اس طاقت ور دشمن کے اندر طاقتور دگار کی شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ اسی طرح سانوی صدی ہجری میں تاتاری قبائل اسلام کے خلاف قابل تسخیر قوت بن کر ابھرے۔ مگر ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں معلوم ہوا کہ یہ طاقت ور تلوار صرف س لئے ظاہر ہوئی تھی کہ بالآخر وہ اسلام کی طاقت ور خادم اور محافظ بن جائے۔ یہی موجودہ زمانہ کے "اسلام دشمن" علوم کا معاملہ ہے۔
ان علوم نے بظاہر آج اسلام کو مغلوب کر رکھا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی کوششوں کو صحیح رخ سے جاری رکھیں تو نصف صدی بھی نہیں گزرے گی کہ یہ سارا علم اسلام قبول کرلے گا، وہ اسلام کے علم کلام کی صورت اختیار کرلے گا اور پھر دنیا دیکھے گی کہ جدید علمی قوت صرف اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues