مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
کیوں کہ انگریزی زبان میں اس طرح کے واقعات کے لئے دو الگ لفظ ہیں۔ ایک کوپ Coup اور دوسرا ریولوشن (Revolution) میرے نزدیک ایران میں جو ہوا وہ ریولوشن نہیں بلکہ کوپ تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام کوپ فوج کے ذریعہ ہوتا ہے اور ایران میں یہ کوپ، مخصوص اسباب کے تحت مذہبی طبقہ (کلر جی) کے ذریعہ پیش آیا۔ اب اگر آپ کوپ سے ریولوشن کے نتیجہ کی امید کریں تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے طفلانہ اچھل کود سے گہری منصوبہ بندی والے نتیجہ کی امید کر لی جائے۔ دوسری بات یہ کہ تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو خارجی تبدیلی کو نشانہ بناکر اٹھتی ہیں اور دوسری وہ جو داخلی تبدیلی کو نشانہ بنا کر اٹھیں۔ غیر پیغمبرانہ تحریکیں اول الذکر انداز پر اٹھتی ہیں اور پیغمبرانہ تحریک ثانی الذکر انداز پر۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام انقلابی تحریکیں (بشمول خمینی تحریک) پہلے انداز پر اٹھائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سراسر بے نتیجہ رہیں۔ آئندہ بھی جب تک ہم پیغمبرانہ انداز پر کام نہیں کریں گے ہماری کوششیں اسی طرح حبط اعمال کا مصداق بنتی رہیں گی۔ کسی "شاہ" ، یاکسی " بھٹو" ، یاکسی " ناصر" کو ہلاک کرنے سے انقلاب نہیں آتا۔ انقلاب اپنے آپ کو ہلاک کرنے سے آتا ہے اور یہی وہ انقلاب ہے جس کے لئے اصاغر و اکابر میں سے کوئی بھی تیار نہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں شروع سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اب بتائیے کہ میں اس سے آگے کیا کروں۔ میں نے کہا کہ الرسالہ ایک مشن ہے۔ یہ مشن آدمی سے اس کی پوری زندگی اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ تاہم اس مشن میں اپنے کو شامل کرنے کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ الرسالہ کی ایجنسی لی جائے۔ آپ الرسالہ کی ایجنسی لے کر اسے پھیلائیں۔
پھر میں نے کہا کہ ایجنسی کا طریقہ عین سنت کا طریقہ ہے۔ قرآن کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ وہ دفعہ ایک کتاب کی صورت میں نہیں اترا بلکہ بار بار اترتا رہا۔ گویا کہ قرآن ایک قسم کا پیریڈ کل (Periodical) تھا جو ۲۳ سال کے دوران وقفہ وقفہ سے نازل ہوتا رہا۔
سیرت کی کتابوں میں تبلیغ کے واقعات آتے ہیں تو اکثر اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں: فعرض عليهم الاسلام وتلا عليهم القرآن (ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا) اس زمانہ میں عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ قرآن کا جو حصہ اترتا اس کو لوگ لکھ لیے یا یاد کر لیتے اور پھر اس حصہ کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ آجکل کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن ایک آسمانی پیریڈیکل تھا اور ہر صحابی اس پیریڈیکل کی ایجنسی لیتے ہوئے تھا" ایجنسی" دراصل اسی قدیم طریقہ کا جدید نام ہے۔ اور ہم نے موجودہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues