مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱
زمانہ کے اعتبار سے اسی کو ماہنامہ الرسالہ کے لئے اختیار کیا ہے۔
اجتماع میں کچھ خواتین بھی شریک تھیں۔ یہ وہی خواتین تھیں۔ جوالرسالہ کو برابر پڑھتی ہیں۔ ان کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ الرسالہ میں خواتین کے لیے کچھ مخصوص صفحات ہونے چاہئیں۔ میں نے کہا کہ کسی صفحہ پر ’’صفحہ خواتین‘‘ کا لفظ لکھا جا سکتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں کا اسلام اور ہے اور عورتوں کا اسلام اور۔ یہ مسئلہ حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ چند خاص ضمنی مسائل میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے۔ ورنہ دین کا جو اصل مطالبہ ہے اس میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ جو چیزیں مردوں پر فرض ہیں وہی عورتوں پر بھی فرض ہیں۔ جو چیزیں مردوں کے لئے حرام ہیں وہی عورتوں کے لئے بھی حرام ہیں۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ ۔ ۔۔ فاستجاب لهم ربهم انى لا اضيع عمل عامل منكم من ذكر او انثى بعضكم من بعض اس آیت کو اس کے سیاق میں رکھ کر دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ایک ہی ’’عمل‘‘ ہے جو دونوں صنفوں سے مطلوب ہے۔
کچھ لوگ اسلام کو ایک قسم کا تبرک سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کچھ خاص طرح کے پر اسرار عملیات ہیں۔ ان کو ان کے خارجی آداب کے ساتھ دہرالو تو جنت مل جائے گی۔ کچھ اور لوگ ہیں جن کے نزدیک اسلام گویا لیڈری کا عنوان ہے۔ انھوں نے عوامی اشو نز پر ہنگامہ کرنے کو اسلام سمجھ رکھا ہے۔ مگر یہ تمام چیزیں اسلام کی تصغیر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنے آپ کو ربانی انسان میں ڈھالنے کا دوسرا نام ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز میں جیتا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی خدا میں جینے لگے۔ دنیا میں زندگی کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ نفس اور شیطان کی باتیں آدمی کی غذا ہوں۔ دوسرے یہ کہ خدا کی باتیں آدمی کی غذا بن جائیں۔
ایک انسان وہ ہے کہ کائنات کو دیکھے تو وہ اس کی عظمتوں میں گم ہو جائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے غیر خدا کو اپنی غذا اپنایا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو کائنات کو دیکھ کر اس کے خالق کو یاد کرنے لگے۔ وہ کائنات کی عظمتوں میں اس کے خالق کی عظمت کو پالے، یہ وہ انسان ہے جو خدا میں جیا۔ جس نے خدا کی یاد کو اپنی غذا بنایا۔
ایک انسان وہ ہے جس کو کامیابی والے حالات ملے تو اس کے اندر بر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور اگر وہ ناکامی کے حالات سے دوچار ہوا تو احساس کمتری میں مبتلا ہو کر رہ گیا۔ یہ وہ انسان ہے جو حالات میں جی رہا ہے۔ اس نے حالات کو اپنا سب کچھ بنارکھا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues