Al-Risala · November 1984 · page 32

مشن میں شرکت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲

کامیابی ملی تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر اور متواضع ہوگیا اور اگر ناکامی کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو اس کو خدا کی طرف سے تنبیہہ سمجھ کر اپنے احتساب میں مشغول ہوگیا۔ یہ انسان وہ ہے جو خدا میں جیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

اسی طرح انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے طرح طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ آدمی کے دل کو طرح طرح کے جھٹکے لگتے ہیں۔ اب ایک انسان وہ ہے جو ایسے مواقع پر رد عمل کی نفسیات کے تحت معاملہ کرے۔ وہ صرف اپنے نفع کو سامنے رکھے نہ کہ حق اور انصاف کو۔ جس کو اپنے سے بڑھتا ہوا دیکھے اس سے حسد کرنے لگے۔ کوئی دنیوی اعتبار سے اس سے کم ہو تو اس کو حقیر سمجھ لے۔ کسی سے شکایت ہو تو اس کے خلاف نفرت اور انتقام سے اس کا سینہ بھر جائے۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنے نفس میں جینے والا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا انسان وہ ہے جو رد عمل سے اوپر اٹھ کر جئے۔ جو معاملات میں ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے حکم کا پابند بنائے رہے۔ اس کا سینہ حسد اور نفرت اور انتقام سے پاک ہو۔ وہ جذبات کے ہر طوفان کو خدا کی طرف موڑ دے نہ کہ انسانوں کی طرف۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو خدا میں جینے والا ہے۔ اور اسی دوسرے انسان کو وجود میں لانا اسلام کا اصل مقصود ہے۔ لکھنؤ کے اجتماع میں ابتدا ً سوالات اور جوابات ہوئے ۔ اس کے بعد میں نے مختصر خطاب میں بتایا کہ الرسالہ کی تحریک کا خاص نشانہ دو ہے۔ ایک زندہ عقیدہ پیدا کرنا۔ دوسرے، تعمیری اندازِ فکر۔ تقریباً آدھ گھنٹہ کے خطاب میں ان باتوں کی تفصیل بیان کی۔ لکھنؤ سے مجھ کو گونڈہ جانا تھا۔ لکھنؤ سے کرنل گنج تک ہم نے کار کے ذریعہ سفر کیا۔ یہاں سے دوبارہ ہم کو ٹرین پکڑنی تھی۔ مگر اسٹیشن پہنچنے میں چند منٹ کی دیر ہوگئی۔ ہم پلیٹ فارم میں داخل ہوئے تو ٹرین چل چکی تھی۔ میرے ساتھی جناب یمین الاسلام خان صاحب دوڑ کر چڑھ گئے۔ مگر میں اپنی کمزوری کی وجہ سے چلتی ٹرین میں چڑھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ چنانچہ وہ بھی اتر آئے۔ میں نے سوچا کہ زندگی کی گاڑی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ کبھی یہ گاڑی اپنے مقام پر کھڑی ہوئی ملتی ہے کہ آپ آسانی سے اس پر سوار ہو جائیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چلتی ہوئی گاڑی میں کود کر آپ کو چڑھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ زندگی کی گاڑی اس کو ہمیشہ کھڑی ہوئی ملے تو موجودہ عالم اسباب میں اس کی اس خواہش کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ یہ دنیا سہل پسندی کا قبرستان نہیں بلکہ عالی ہمتی کی امتحان گاہ ہے۔ یہاں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو عالی ہمتی اور بلند حوصلگی کا ثبوت دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page