مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
اب ہم نے ٹیکسی کی تلاش کی، مگر کوئی ٹیکسی نہیں ملی۔ دوسرا واحد بدل بس تھا۔ چنانچہ ہم نے کرنل گنج سے گونڈہ تک پچاس کلومیٹر کا سفر بس کے ذریعہ طے کیا۔ بس میں اگر چہ اتنے ہی آدمی تھے جتنی سیٹ تھی۔ تاہم یہ لوگ طرح طرح کے عوامی طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی دلچسپ باتیں سننے کو ملیں۔ بس عام انسانوں کے سفر کی سواری ہے۔ بس میں ملک کے عام انسان سے ملاقات تی ہے۔ جو شخص صرف ’’فرسٹ کلاس‘‘ یا ’’ ہوائی جہاز‘‘ سے سفر کرے اور کبھی اس سے نیچے نہ اترے وہ عام انسانوں سے باخبر نہیں ہو سکتا۔
مسافروں میں سے کوئی اکیلا تھا۔ جو اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ کوئی دو یا تین تھے جس کا کوئی ساتھی پانی پینے کے لئے باہر چلا گیا تھا۔ پہلی قسم کے مسافر ٹکٹ لے چکے تو انھوں نے کنڈکٹر سے کہنا شروع کیا کہ جلدی چلو، جلدی چلو۔ دوسری قسم کے مسافر چیخنے لگے ’’ روک کر ، روک کر‘‘ آجکل کی دنیا میں ہر آدمی صرف اپنی غرض کو جانتا ہے۔ کوئی ’’گاڑی‘‘ کو چلانے کا نعرہ لگا رہا ہے اور کوئی اس کو روکنے کا۔ یہ دونوں نعرے بظا ہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ جس کو جو نعرہ سود مند دکھائی دے رہا ہے اس کو اس نے اختیار کر لیا ہے ۔ خواہ وہ ایک قسم کا نعرہ ہو یا دوسرے قسم کا۔
گونڈہ میں میری قیام گاہ سے ملی ہوئی سڑک پر ایک روز چند نوجوان جا رہے تھے۔ وہ آپس میں جوش کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ ایک نوجوان کی آواز کان میں آئی :
’’ میری تو یہی عادت ہے۔ میں کسی کا کہا نہیں مان سکتا۔ بالکل نہیں‘‘ یہ بات جو نوجوان نے کہی، یہی موجودہ زمانہ کا عام مزاج ہے۔ آج کوئی شخص کسی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہر آدمی اپنی رائے کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی بے تکان اپنی رائے کی حمایت میں تقریر کر رہا ہے۔ کسی سے بات کیجئے تو فوراً محسوس ہوگا کہ اس کو صرف اپنی بات سنانا ہے، آپ کی بات سننے کی اسے ضرورت نہیں۔
ایک حدیث میں قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: اور ہر رائے والے کا صرف اپنی رائے کو پسند کرنا (و اعجاب كل ذي رأي بر أيه) آجکل کے لوگوں کا حال دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب وہی زمانہ آگیا ہے۔ آج کے دور کے مزاج کو اگر ایک لفظ میں کرنا ہو تو وہ یہی ہو گا کہ ۔ ۔۔ ہر آدمی کا صرف اپنی رائے کو رائے سمجھنا۔ یہی آج ہر ایک کا مزاج بن چکا ہے۔ خواہ وہ جاہل ہو، ہو یا عالم۔ امیر ہو یا غریب، مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ حتی کہ اصلاح کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues