مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴
علم بردار ہو یا فساد کا علم بردار۔
لوگوں کا یہ مزاج اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اپنے باہر کوئی سچائی کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔ حالانکہ سچائی کا انکار کسی انسان کا انکار نہیں بلکہ خود خدا کا انکار ہے۔ ہر بات کا ایک انسانی رخ ہوتا ہے اور ایک اس کا خدائی رخ۔ انسانی رخ یہ ہے کہ وہ ایک انسان کی زبان سے ادا ہو رہی ہے۔ اور خدائی رخ یہ ہے کہ وہ حق ہے، وہ خدا کی مطلوب بات ہے ــــــ غیر مومن کسی بات کے صرف انسانی رخ کو دیکھتا ہے اور اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو بات کے خدائی رخ کو دیکھ لے اور اس کے آگے ڈھ پڑے۔ اس خود رائی کی نہایت زبردست قیمت آج کا ہر انسان ادا کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ وہ دوسروں کے تجربہ سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ ہر آدمی زندگی کا تجربہ خود کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نصف زندگی تجربہ میں گزار چکا ہے اس وقت اسے معلوم ہوتا ہے کہ کرنا کیا چاہتی تھا۔ اور میں کیا کرتا رہا۔ مگر اب وہ زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کا اس کے سوا کچھ انجام نہیں ہوتا کہ وہ حسرت کے ساتھ ایک ایسی دنیا سے چلا جائے جہاں دوبارہ آنا اس کے لئے مفت در نہیں ۔ جانور اپنی ذاتی جبلت کے تحت عمل کرتے ہیں۔ انسان کو دوسروں کی نصیحت پر عمل کرنا ہے۔ آدمی جب نصیحت کا لحاظ کرنا چھوڑ دے تو وہ بد تر از حیوان کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ جس کو قرآن میں اسفل سافلین کہا گیا ہے۔
گونڈہ میں اسی ماہ اپریل 1984 کا ایک واقعہ میرے علم میں آیا۔ ایک نوجوان اپنے ساتھی کو لے کر ایک بڑے تاجر کے یہاں پہنچا اور پچاس ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا۔ تاجر نے عذر کیا۔ اتنے میں اس کا منشی آگیا جس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔ نوجوان نے سمجھا کہ اس میں روپے سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس نے فوراً بندوق اٹھائی اور منشی کے سینہ میں گولی پیوست کر دی۔ وہ وہیں مر گیا۔ اس کے بعد نوجوان نے بیگ کھولا تو اس کے اندر صرف کاغذات تھے۔
پولیس نے اگلے دن نوجوانوں کو پکڑ لیا۔ یہ لوگ وہ تھے جو اس سے پہلے بہت سے کیس کر چکے تھے۔ اور پولیس پہلے سے ان کے بارہ میں بھری بیٹھی تھی۔ چنانچہ پولیس نے ان کی پٹائی شروع کی۔ کہنے والوں نے بتایا کہ اینٹ سے مار مار کر ان کے دونوں پاؤں توڑ ڈالے۔
جولوگ اس طرح کا کام کرتے ہیں وہ نہایت بہادر لوگ ہوتے ہیں۔ مگر وہ اپنی بہادری کو دادا گیری میں استعمال کرتے ہیں۔ اب غور کیجئے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ۔ وہ یا تو جیل میں پڑے پڑے مرجائیں گے یا برسہا برس کے بعد اس حال میں نکلیں گے کہ وہ جسمانی اعتبار سے بالکل ناکارہ ہو چکے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues