Al-Risala · November 1984 · page 37

مشن میں شرکت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷

واقعات سنائے ۔ اس ضمن میں انھوں نے ظفء علی خاں کا ایک شعر سنایا جو انھوں نے ایک مشاعرہ میں پڑھا تھا اور مشاعرہ کے مسلم شرکا ر اس کو سن کر جھوم اٹھے تھے ۔ شعر یہ تھا : دنیا میں بلائیں دوہی ہیں اک ساور کر اک گاندھی ہے اک کفر کا چلتا جھکڑ ہے اک ظلم کی چلتی آندھی ہے جس شعر کو پڑھ کر کہ مذکورہ بزرگ خوش ہو رہے تھے اس کو سن کر میرا دل غم کے بوجھ کے نیچے دب گیا ۔

میں نے سوچا کہ اس قسم کے لیڈر جو دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے میں مشغول تھے وہ خود کتنے بڑے ظالم تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایک پوری نسل کو اس ذہن میں مبتلا کر دیا کہ سب سے بڑے ظالم ” ساور کر “ اور ” گاندھی “ ہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق ، انسان کے لئے اصل ظالم دوسرے ہیں اور وہ نفس اور شیطان ہے۔ اس قسم کی تحریکیں چلا نا قوم کو جھوٹ کے اوپر کھڑا کرنا ہے ۔ اور جو قوم جھوٹ کے اوپر کھڑی کی جائے اس کا انجام دنیا میں بربادی کے سوا اور کچھ تھیں۔ ماضی کے لیڈر اپنی قبروں میں لیٹ چکے ہیں مگر جو حال کے لیڈر ہیں وہ بھی ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔ آج بھی ہمارے لیڈروں کو کوئی نہ کوئی ” ساور کر “ یا ” گاندھی “ ملا ہوا ہے اور وہ ان کی نشاندہی کر کے سستی قیادت حاصل کرنے میں مشغول ہیں۔ ہمارے لیڈر ان جھوٹے نعروں پر قوم کی بھیڑ جمع کرتے ہیں اور ” ساور کروں “ اور ” گاندھیوں “ کو میدان سے ہٹا کر یوم فتح مناتے ہیں مگر اصل صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دشمن تو نفس اور شیطان ہیں اور وہ بدستور پوری طاقت کے ساتھ زندہ اور کار فرما موجود ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی واقعی تبدیلی ہو تو کیوں کر ہو۔

۳۰ اپریل اور یکم اور ۲ مئی ۱۹۸۴ء کے ایام میرے گونڈہ میں گزرے۔ گونڈہ میں میرا قیام جناب عبد المحیط خاں صاحب کے یہاں تھا جو گورنمنٹ پالی ٹیکنیک میں پرنسپل ہیں۔ شہر کے باہر تقریباً ۶۵ ایکڑ کے رقبہ میں ایک الگ تھلگ دنیا ہے جو درختوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔

دہلی کے ہنگاموں سے نکل کر اچانک ۳۰ اپریل کی صبح کو میں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں قدرت کے سکون کو صرف چڑیوں کے چہچہے توڑتے تھے۔ جہاں انسانی مصنوعات سے نہ بادہ خدائی مصنوعات دکھائی دیتی نہیں۔ رات کو لان میں چار پائی کے اوپر لیٹا تو کھلے آسمان کا وہ منظر دکھائی دیا جس میں خدا کے سوا کسی اور کا جلوہ شامل نہیں تھا۔ کھلا ہوا آسمان جس میں ستارے جگمگا رہے ہوں،

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page